مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 144
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 128 تلخ لہجہ کیوں استعمال کرتے ہیں۔بہر حال میں نے ان کے اعتراضات اور ان کے بارہ می میں دلائل پر مبنی ایک ڈائری بنالی تھی۔ایک دن میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ اس قدر ہوئے لہجے میں سوال کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دراصل جب میں ایسے لہجے میں سوال کرتا ہوں تو آپ غصے میں آجاتے ہیں اور میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ غصے میں زیادہ اچھی عربی بولتے ہیں۔اس وقت تک مجھے ان کی بیعت کے بارہ میں مذکورہ واقعہ کا علم نہ تھا۔بعد میں مکرم عمر و عبد الغفار صاحب نے ساری تفصیل سے مجھے آگاہ کر دیا۔کاظم صاحب نے بعد میں با قاعدہ بیعت کر لی تھی لیکن اس کے باوجود جماعت سے ذرا دور دور ہی رہے۔مکرم محمد گردی صاحب۔اس وقت کے احمدیوں میں ایک استاذ محمد کردی صاحب بھی تھے جن کی عمر اس وقت 50 سال کے لگ بھگ تھی۔وہ باقاعدگی سے اس وقت حضور کی خدمت میں خط ارسال کرتے تھے۔علم اعداد سے انہیں خاصی دلچسپی تھی۔یہ دوست ٹیچر تھے۔ان کے دو چھوٹے بچے تھے۔ہم ان کے پاس اکثر جایا کرتے تھے۔اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔جب میں 1991ء میں دوبارہ مصر گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے بڑے ہو چکے تھے اور احمدیت سے دور چلے گئے تھے جبکہ گردی صاحب خود آخر دم تک احمدیت پر قائم رہے۔شاید بچوں کے احمدیت سے دور ہونے کی وجہ یہ بھی تھی کہ گردی صاحب کی بیوی غیر احمدی تھیں۔گردی صاحب کے ساتھ بھی میرا ایک بہت دلچسپ واقعہ ہے۔جب میں پاکستان سے مصر روانہ ہونے لگا تو میرے تخصص کے ٹیوٹر مکرم ملک مبارک احمد صاحب (مرحوم) نے نصیحت کی کہ وہاں جا کر صرف فُصحی عربی بولنا اور لوکل زبان بالکل نہ بولنا کیونکہ اس میں قواعد کا خیال نہیں رکھا جاتا۔لہذا میں نے مصر پہنچتے ہی سب کو کہہ دیا کہ میرے ساتھ فُصحی عربی ہی بولا کریں۔احمدی احباب نے اس کی مکمل تائید کی اور تجویز دی کہ چونکہ کر دی صاحب پرائمری سکول کے ٹیچر بھی ہیں تو ان سے مدد لی جائے۔ان کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کام ابھی شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے ایک اخبار