مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 143
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 127 میں لکھا کہ اب اس انسٹیٹیوٹ میں رہ کر ویزا میں توسیع کا امکان تو ختم ہو گیا ہے۔اب یا تو میں جامعہ الازہر کا رخ کروں ، یا واپس پاکستان چلا جاؤں، یا ایک اور بھی آپشن موجود ہے اور وہ یہ که مصری حکومت سیاحت کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس سے ہر سال خاصا زرمبادلہ بھی کماتی ہے لہذا اگر وزٹ ویزا کے لئے کوشش کی جائے تو عین ممکن ہے مزید چھ ماہ کیلئے یہاں قیام کی اجازت مل جائے۔اس پر حضور انور کی طرف سے جواب آیا کہ آپ کو نہ پاکستان جانے کی ضرورت ہے نہ کسی اور ویزا کی۔بلکہ ہم سپانسر کے کاغذات ارسال کر رہے ہیں آپ ان کے مطابق یہاں آجائیں ہمیں یہاں پر آپ کی ضرورت ہے۔لہذا اس طرح خاکسار 17/ جنوری 1988ء کو پیارے آقا کے قدموں میں لندن پہنچ گیا۔فالحمد للہ علی ذلک۔بعض احمدیوں کا ذکر خیر میرے مصر میں قیام کے دوران کئی ایسے احمدی تھے جن کا ذکر ریکارڈ اور دعا کی خاطر کرنا چاہتا ہوں۔مکرم کا ظلم صاحب اس وقت جماعت کے ایک ممبر مکرم کا ظم صاحب تھے جو دراصل مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب کے بھانجے تھے اور سعودی عرب میں کام کرتے تھے۔اس دوران انہوں نے ابوالحسن ندوی کی جماعت کے خلاف اعتراضات سے پُر کتاب کا مطالعہ کیا اور اس وقت حضرت خلیفہ ایح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں بھی لکھا کہ گو مجھے معلوم ہے کہ احمدیت سچی ہے لیکن اس کتاب کی وجہ سے میرے دل میں کچھ شکوک پیدا ہوئے ہیں اس لئے جب تک اس کتاب کا جواب نہیں دیا جاتا اس وقت تک میں دوبارہ بیعت نہیں کروں گا۔اس دوست کے پاس اپنی گاڑی ہوتی تھی اور کہیں آنے جانے کیلئے مکرم عمر وعبد الغفار صاحب انہی کی خدمات حاصل کرتے تھے کیونکہ یہ بڑی خوش دلی سے یہ خدمت پیش کرتے تھے۔لیکن جب بھی ان کی گاڑی میں بیٹھتے یہ کوئی نہ کوئی سوال کر دیتے۔اور سوال کرنے کا انداز چیھنے والا ہوتا۔مجھے یہ بات بہت ناگوار گزرتی کہ یہ احمدی ہو کر اس طرح کا درشت اور