مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 142 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 142

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 126 سات یا آٹھ بجے جب انہوں نے آفس وغیرہ جانا ہوتا تھا تو ان میں سے بعض اس وقت فجر کی نماز پڑھ کر جاتے تھے اور اس کا نام انہوں نے نماز صبح رکھا ہوا تھا۔دوسری بات جس کی وجہ سے مجھے کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کے کھانے تھے۔لوگ اپنے کھانوں میں کھٹائی بہت استعمال کرتے ہیں۔اور میں زیادہ کھٹائی کھا نہیں سکتا تھا لہذا اکثر اوقات میں ناشتہ عصر کے وقت کیا کرتا تھا یعنی اس وقت جب میں نے انسٹیٹیوٹ جانا ہوتا ہے تھا جبکہ اس سے قبل کوئی پھل وغیرہ کھا کر گزارہ کر لیتا تھا۔انسٹیٹیوٹ میں داخلہ اور ویزہ میں توسیع مصر میں جو طلباء جامعہ الازہر میں پڑھنے کیلئے دیگر غیر عرب ممالک سے آتے ہیں ان کے لئے عربی زبان میں کسی قدر مہارت حاصل کرنے کے لئے وہاں پر ایک انسٹیٹیوٹ ہے جس میں مجھے داخلہ مل گیا۔ازاں بعد اس انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والے ایک کلرک کی مدد اور راہنمائی سے ویزا میں ایک سال کی توسیع ہوگئی۔جب میرے پہلے سال کا ویزا ختم ہوا تو میں نے حضورانور کی خدمت میں بغرض ہدایت اور راہنمائی تحریر کیا کہ میرے پاس دو آپشن (Option) ہیں۔ایک یہ کہ پہلے کی طرح اس انسٹیٹیوٹ میں رہتے ہوئے مزید ایک سال کا ویزا حاصل کرلوں اور پڑھائی ذاتی کوشش سے جاری رکھوں، کیونکہ یہ انسٹیٹیوٹ بہت ہی بنیادی ہے۔دوسری آپشن جس کا یہاں کے احمدی احباب بھی مشورہ دے رہے ہیں یہ ہے کہ میں جامعہ الازہر میں داخلہ لینے کی کوشش کروں۔اس پر حضور کا ارشاد ملا کہ انسٹی ٹیوٹ میں رہتے ہوئے ویزا لے کر وہاں رہنے کی کوشش کریں اور اپنے طور پر پڑھتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو سکھا دے گا۔لہذا میں نے انسٹیٹیوٹ کے کلرک کی مدد سے مزید ایک سال کا ویزا لے لیا۔یوں دو سال تو بخیریت گزر گئے۔تیسرے سال ویزا کی توسیع کی کوشش کی گئی تو اس کلرک نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ اب میرے افسر نے پوچھا ہے کہ اس پاکستانی کی تو عربی بہت اچھی ہے پھر ابھی تک وہ اس ابتدائی انسٹیٹیوٹ میں کیا کر رہا ہے۔اس عرصہ میں 1987 ء کے شروع میں مکرم منیر احمد جاوید صاحب بھی عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے مصر آچکے تھے۔اس سال کے آخر پر میں نے حضور انور کی خدمت