مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 141 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 141

125 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سنبھالیں۔یہ جماعت کسی زمانے میں بہت فعال جماعت ہوتی تھی اور بڑے کام ہوئے ہیں۔اس لئے جماعت کی طرف توجہ دیں۔دوسری بات حضور کی اس ہدایت میں یہ تھی کہ ہماری جماعت میں عربی دان تو بہت ہیں لیکن عربوں کے انداز میں اور ان کے لہجے کے ساتھ بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔اس لئے عربوں میں بیٹھیں، ان سے گفتگو کریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح بات کرتے ہیں پھر ان کے سٹائل اور لہجہ کو اپنا ئیں۔چنانچہ اس کے بعد میں ہفتہ بھر کچھ نہ کچھ ترجمہ کرتا رہتا اور جمعہ کے دن اس ترجمہ شدہ مواد پر مشتمل خطبہ جمعہ دینے کی توفیق پاتا رہا۔یوں میری عربی زبان میں تحریر، ترجمہ اور بولنے کی ریکٹس ہوتی رہی۔ان دنوں مکرم علمی الشافعی صاحب کے گھر جمعہ ادا کیا جاتا تھا۔اور نمازیوں کی تعداد 6 یا 7 ہوتی تھی۔صدر جماعت مکرم عبدالمجید بولا دصاحب تھے جو نائیجرین تھے اور ازہر میں پڑھ رہے تھے۔بعد میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کر کے اب نائیجریا میں تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔اُس وقت مصر میں میری سب سے زیادہ مدد جس شخص نے کی اس کا نام عمر و عبد الغفار الأحمدی ہے جو مصطفیٰ ثابت صاحب کے ذریعے نئے احمدی ہوئے تھے اور میرے ہم عمر ہی تھے۔بعض مصری عادات سے گھبراہٹ مصر پہنچ کر جن امور سے مجھے سخت گھبراہٹ ہوئی وہ اونچی اونچی عمارتیں اور ان میں ہمارا فلیٹ ساتویں آٹھویں منزل پر تھا جہاں روزانہ آنے جانے سے دل میں شدید گھبراہٹ پیدا ہوتی تھی۔اسی طرح ہر فلیٹ کی بالکونی ہوتی ہے اور فلیٹ آپس میں اتنے قریب قریب ہوتے ہیں کہ آس پاس کی آوازیں اور شور سے آپ بچ نہیں سکتے۔اور مصریوں کی یہ عادت ہے کہ رات بھر نہیں سوتے بلکہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔پھر فجر سے کچھ پہلے سو جاتے ہیں۔خصوصا رمضان المبارک میں ساری رات ان کا ٹی وی سهرات رمضانية “ کے عنوان سے رمضان کے خاص پروگرام نشر کرتا ہے جو صبح سحری تک رہتے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ ساری رات کھاتے پیتے اور یہ پروگرام دیکھتے اور ہنستے کھیلتے رہتے تھے۔پھر سحری کے وقت سے ایک گھنٹہ قبل سو جاتے تھے اور صبح