مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 140
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 124 خصص کروانا شروع کر دیا۔چنانچہ اس وقت سے ہی ان کی مختلف کتب کی طرف راہنمائی اور اساتذہ کی نگرانی وغیرہ شروع ہو گئی تھی۔یہ چار خوش نصیب مکرم نصیر احمد قمر صاحب ، مکرم عبد الماجد طاہر صاحب، مکرم منیر احمد جاوید صاحب اور مکرم عبد المومن طاہر صاحب ہیں۔مکرم عبد المومن طاہر صاحب کی مصر روانگی ان چاروں حصین کے لندن کے ویزا کے لئے سب سے پہلے مکرم نصیر احمد قمر صاحب اور مکرم منیر احمد جاوید صاحب کا برٹش ایمبیسی میں انٹرویو ہوا۔ازاں بعد مکرم عبد الماجد طاہر صاحب اور مکرم عبد المؤمن طاہر صاحب ابھی انٹرویو کے لئے انتظار کر رہے تھے کہ حضور انور کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی کہ عربی زبان کے متخصص کو فور ا مصر بھیجا جائے وہاں ان کی بہت ضرورت ہے۔ساتھ یہ بھی پیغام موصول ہوا کہ اگر ممکن ہو تو اسے براستہ لندن روانہ کیا جائے۔جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مصر براستہ لندن بہت مہنگا ثابت ہوگا لہذا انہیں براہ راست ہی مصر روانہ ہونا پڑا۔مکرم عبدالمومن طاہر صاحب 25 اکتوبر 1985ء کومصر پہنچے۔ائیر پورٹ پر مکرم ابراہیم البخاری، مکرم حاتم علمی الشافعی صاحب وغیرہ موجود تھے۔ابتداء میں چند روز ایک اجتماعی کمرہ میں قیام کیا بعد ازاں رہائش کے لئے ایک گھر کرائے پر لے لیا گیا اور یہ وہاں رہنے لگے۔اب آگے ہم اس سلسلہ میں بعض حالات و واقعات کا ذکر خود محترم عبدالمومن صاحب کی زبانی سنتے ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی نصیحت اور اس کے ثمرات مکرم عبدالمومن طاہر صاحب کہتے ہیں کہ: میں جب مصر پہنچا تو ذہن میں یہی تھا کہ مصر ایک سیاحتی ملک ہے وہاں دو ہی کام ہوں گے ایک پڑھنا اور دوسرا وقتاً فوقتاً آثار قدیمہ کی سیر کرنا۔لیکن جب میں نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں اپنے مصر پہنچنے کی اطلاع کی تو حضور کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی کہ یاد رکھیں آپ یہاں طالبعلم کے طور پر ہی نہیں بلکہ مربی بھی ہیں اس لئے جماعت کو