مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 139
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 123 عرب ممالک میں واقفین زندگی مربیان کی روانگی حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے لندن ہجرت کے بعد دیگر اقوام کے علاوہ عربوں میں خاص طور پر تبلیغ کے لئے بہت سے پروگرام شروع کئے جن میں سے کئی امور کا ذکر ہم پیچھے کر آئے ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ عرب ممالک میں واقفین زندگی بھجوائے جائیں اور عربی دان علماء تیار ہوں۔چنانچہ اس غرض کے لئے سب سے پہلے مکرم عبد المومن طاہر صاحب کو مصر بھجوایا گیا۔اس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ حضور انور رحمہ اللہ کی ہجرت کے بعد مکرم ملک سیف الرحمن صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمد یہ ربوہ بھی مستقل رہائش کے لئے کینیڈا منتقل ہو گئے۔کینیڈا جاتے ہوئے آپ حضور انور سے ملاقات کے لیئے لندن رُکے۔اس ملاقات میں آپ نے ی حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے کچھ مختص تیار کئے ہیں۔وہ اس وقت تو پاکستان میں ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان سب کو کسی عرب ملک میں بھیج دیا جائے تو نہ صرف ان کے علم میں ترقی ہوگی بلکہ ان کے افق بھی وسیع ہوں گے۔حضور انور نے محترم ملک صاحب کی تجویز کو قبول فرماتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ ان متخصصین کو پہلے یہاں لندن بھجوایا جائے اور پھر یہاں سے کسی عرب ملک بھیجوانے کی کارروائی کی جائے گی۔محترم ملک سیف الرحمن صاحب کا تاریخی کام محترم ملک صاحب نے اپنی خاص نگرانی اور محنت اور توجہ اور دعاؤں سے جامعہ احمدیہ میں سے چار طالبعلموں کا انتخاب کیا، ان کو جامعہ کی پہلی دوسری کلاس سے ہی مختلف مضامین میں