مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 135
مصالح العرب۔جلد دوم 119 عرب علماء سے استفتاء جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا کہ حضور انور رحمہ اللہ نے دیگر اقوام کے علاوہ عربوں میں خاص طور پر تبلیغ کے لئے بہت سے پروگرام شروع کئے جن میں سے کئی کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ان میں سے ایک مختلف عرب علماء سے بعض اہم اختلافی امور کے بارہ میں فتویٰ طلب کرنا بھی تھا۔اس سلسلہ میں یہ ذکر کرنا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ اس سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی عرب علماء اور اہل علم حضرات کے نام ”الاستفتاء“ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو حقیقۃ الوحی کے ساتھ ملحق عربی حصہ ہے، اس میں حضور نے ان سے یہی پوچھا ہے کہ تمہاری اس شخص کے بارہ میں کیا رائے ہے جو تمام ارکان اسلام پر عمل کرتا ہے قرآن کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری شریعت لانے والا رسول مانتا ہے؟ کیا ایسا شخص آپ کی نظر میں کافر ہے یا مسلمان؟ اس عربی کتاب کا اکثر حصہ اسلامی عقائد کے بیان اور ان پر ایسے سوالات پر مشتمل ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ میں ان تمام عقائد پر ایمان رکھتا ہوں اور ان پر پوری طرح کاربند ہوں پھر کیا میں تمہاری نظر میں کافر ہوں یا مسلمان؟ اسی نہج پر حضرت خلیفۃ أیح الرابع نے بھی بعض عرب علماء سے فتوے منگوانے کا ارشاد فرمایا۔حضور انور کے حسب ہدایت مکرم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی طرف سے ایک خط جناب شیخ عبداللہ اشیخلی صاحب خطیب جامع الامام الأعظم بغداد کو ارسال کیا گیا جس کا مضمون کچھ یوں تھا کہ: کیا اسلامی شریعت میں ایسے شخص کے لئے کوئی سزا مقرر ہے جو مسلمان نہ ہو پھر بھی