مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 116
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 100 ہو۔عالمی طاقتوں کو عربوں کے بارہ میں انتباہ سورة الهمزة کی تفسیر کرتے ہوئے ایک خطبہ میں حضور نے فرمایا: "همزة كا معنی ٹکڑے ٹکڑے کر دینا تو ڑ کر ریزہ ریزہ کر دینا کسی کو اور اس کے بعد خود مالدار رتے چلے جانا اور جس کو گرایا جارہا ہے جس کو خاک پر پھینکا جارہا ہے اس کو ذرہ حقیر اور بے معنی سمجھ کر یہ خیال کر لینا کہ ساری دوستیں تو میرے ہاتھ میں اب آچکی ہیں اب یہ میرا مقابلہ کسی طرح کر سکتے ہیں ذرات جن کو میں نے پارہ پارہ کیا ہوا ہے۔بالکل یہی سوچ مغربی دنیا کی بھی ہے اور مشرقی دنیا کی بھی ہے۔عظیم الشان اشترا کی طاقتیں بھی یہ بجھتی ہیں کہ ساری قوم کے اموال تو ہمارے چند ہاتھوں میں آچکے ہیں اور ہمارے کنٹرول میں آگئے ہیں جو اس وقت کسی Regime کے نام پر حاکم ہیں ان لوگوں پر ان کے پاس تو کچھ نہیں رہا۔یہ تو ذرات میں تبدیل ہو چکے ہیں لوگ اس لئے جب اموال ہمارے پاس ہیں تو یہ ہمارے مقابل پر کس طرح اٹھی سکتے ہیں اس لئے ہمیشہ کے لئے ہماری Regime ، ہماری طاقتیں ، ہمارے گروہ جو اس وقت حکومت کر رہے ہیں جاری رہیں گے ہمیشہ کے لئے اور دن بدن انفرادی طاقت کم ہوتی چلی جائے گی اجتماعی طاقت کے مقابل پر اور مغربی دنیا کا بھی بالکل یہی نقشہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ساری دولتیں تو ہم نچوڑتے چلے جارہے ہیں۔جتنی زیادہ ڈیویلپمنٹ ہو رہی ہے ہم ان پسماندہ قوموں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بھاگ رہے ہیں اور اموال سمٹ کر ہمارے ہاتھوں میں آتے چلے جارہے ہیں تو یہ ذرات بے معنی اور حقیر ذرے بے بس ذرے یہ ہمارا مقابلہ کس طرح کر سکیں گے اس لئے ہمیں ہمیشہ کی زندگی مل گئی ہے۔تو معنوی لحاظ سے اس کا یہ معنی ہوگا کہ بعض دفعہ حقیر ذروں کے اندر بھی ایک آگ پیدا