مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 104 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 104

90 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سے اس جنگ کی ابتدا ہو سکتی ہے۔تاہم یہ ایک انذاری پیشگوئی ہے جو دعاؤں، صدقات، اصلاح نفس اور توبہ واستغفار سے مل سکتی ہے۔اگر انسان اسلام نہ بھی لائے لیکن اپنے دل میں ایک حد تک خشیت اللہ پیدا کرے تب بھی اگر وہ اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عقل سے کام لے تو ان خطرات سے بچ سکتا ہے۔اگر انسان نے اسلام کی روشنی حاصل نہ بھی کی ہو تب بھی فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : 30) سے انسانی فطرت کی کوئی نہ کوئی جھلک اور دھندلی سی روشنی کام دے سکتی ہے اگر چہ وہ اتنی منور نہیں ہوتی ، اس میں اتنی چمک نہیں ہوتی جتنی اسلام کے نور سے فطرت انسانی منور ہو کر دنیا میں روشنی پیدا کرتی ہے لیکن بہر حال انسانی کی فطرت کے اندر ایک دھندلی سی روشنی ضرور پائی جاتی ہے اس کے مطابق ہی اگر دنیا کام کرے اور خدا کی طرف رجوع کرے تب بھی لوگ خدا کے غضب سے بچ سکتے ہیں اور ایٹمی جنگوں کی تباہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس وقت انسان اپنے ہی ہاتھوں تباہی کے سامان پیدا کر رہا ہے اور ایک بین الاقوامی فساد کے خطرہ کا موجب بن رہا ہے۔خطبہ جمعہ 21 دسمبر 1973ء) قرآن کریم کی لغوی بلاغت کا اعجاز 66 حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ایمان کا لفظ کبھی عربی زبان میں اقرار باللسان کے معنوں میں بھی آتا ہے بلکہ یوں کی کہنا چاہئے کہ اسلامی محاورہ میں، کیونکہ عربی زبان پر قرآن کریم کی زبان کا بڑا اثر ہوا ہے گو وہ پہلے بھی بڑی اچھی اور بہترین زبان تھی لیکن قرآن کریم کی وحی کی عربی نے عربی زبان پر بڑا اثر کیا ہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ جب ہم مصر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ایک نوجوان ہمسفر ہر بات میں قرآن کریم کی آیات کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا استعمال کرتا تھا۔چنانچہ میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ نوجوان قرآن کریم سے بڑی محبت رکھتا ہے اس لئے اسے قرآن کریم از بر ہے۔خیر ہم باتیں کرتے رہے۔کوئی گھنٹے دو گھنٹے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ عیسائی ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تم عیسائی ہو مگر قرآنِ کریم کی آیات کے فقرے کے فقرے استعمال کرتے ہو۔وہ کہنے لگا۔میں عیسائی تو ہوں لیکن قرآنِ کریم کی عربی سے ہم بچ نہیں سکتے۔یہ ہمارے ذہنوں اور زبان پر بڑا اثر کرتی ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 19 نومبر 1971ء)