مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 100
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 86 پڑے گا لیکن جب وہ اپنے انتہاء کو پہنچے تو اس وقت جتنا طاقتور روس کا شارٹ ویو اسٹیشن (SHART WAVE STATION) ہے جو ساری دُنیا میں اشتراکیت اور کمیونزم کا پرچار کر رہا ہے اس سے زیادہ طاقتور اسٹیشن وہ ہو جو خدا کے نام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دُنیا میں پھیلانے والا ہو اور چوبیس گھنٹے اپنا یہ کام کر رہا ہو۔اس کے متعلق میں نے سوچا کہ امریکہ میں تو ہم آج بھی ایک ایسا اسٹیشن قائم کر سکتے ہیں وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔جس طرح آپ ریڈیو ریسیونگ سیٹ (RADIO RECEIVING SET) کا لائسنس لیتے ہیں اسی طرح آپ براڈ کاسٹ (BROAD CAST) کرنے کا لائسنس لے لیں وہ آپ کو ایک فری کونسی (FREQUENCY) دے دیں گے اور آپ وہاں سے براڈ کاسٹ کر سکتے ہیں لیکن امریکہ اتنا مہنگا ہے کہ ابتدائی سرمایہ بھی اس کے لئے زیادہ چاہئے اور اس پر روز مرہ کا خرچ بھی بہت زیادہ ہوگا اور اس وقت ساری دُنیا میں پھیلی ہوئی اس روحانی جماعت کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں یعنی میدان تو کھلا ہے لیکن ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے۔دوسرے نمبر پر افریقہ کے ممالک ہیں نائیجیریا، غانا اور لائبیریا سے بعض دوست یہاں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے۔غانا والوں سے تو میں نے اس کے متعلق بات نہیں کی لیکن باقی دونوں بھائیوں سے میں نے بات کی تو انہوں نے آپس میں یہ بات شروع کر دی کہ ہمارے ملک میں یہ لگنا چاہئے اور وہاں اجازت مل جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ گو پتہ تو کوشش کرنے کے بعد ہی لگے گا کہ کہاں اس کی اجازت ملتی ہے لیکن ان ممالک میں سے کسی نہ کسی ملک میں اس کی اجازت مل جائے گی اور چونکہ ہماری طرح یہ ملک بھی غریب ہیں اس لئے زیادہ خرچ کی ضرورت نہیں ہوگی شروع میں میرا خیال تھا کہ صرف پروگرام بنا کر اناؤنس کرنے والے ہی ہمیں دس پندرہ چاہئیں پہلے مرحلے میں چاہئے کہ یورپ اور مشرق وسطی کی زبانوں میں پروگرام نشر کیا جا سکے۔اسی طرح عرب ممالک اور پھر ٹر کی ، ایران، پاکستان اور ہندوستان سب اس کے احاطہ میں آجائیں گے، انشاء اللہ۔جہاں تک پیسے کا سوال ہے میرے دماغ نے اس کے متعلق اس لئے نہیں سوچا کہ مجھ ہی نہیں کہ اس کے لئے کتنے پیسے چاہئیں۔لیکن جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ " کتنے پی چاہئیں“ کے متعلق دریافت کیا جائے تو اس کے متعلق میں نے انتظام کر دیا ہے۔جلسہ پر بعض