مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 91 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 91

77 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم جواب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عطا فرما دیا ہے۔آپ نے فرمایا: سچ پوچھو تو ان کی یہ مخالفتیں ہماری مزرعہ کامیابی کے لئے کھاد کا کام دے رہی ہیں کیونکہ اگر مخالفوں سے میدان صاف ہو جاوے تو اس میدان کے مردانِ کارزار کے جواہر کس طرح ظاہر ہوں اور انعامات الہی کی غنیمت سے اُن کو کس طرح حصہ نصیب ہو اور اگر اعداء کی مخالفت کا بحر مواج پایاب ہو جاوے تو اس کے غوّاصوں کی کیا قدر ہو اور وہ بحرِ معانی کے بے بہا گوہر کو کس طرح حاصل کر سکیں۔مادر ما قیل۔نیز فرمایا: گر نبودے در مقابل روئے مکروہ وسیاہ کس چه دانستے جمال شاہد گلفام را گر نیفتادے بخصم کار در جنگ و نبرد کے شود جو ہر عیاں شمشیر خوں آشام را ( ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن جلد سوم صفحه 467) " جس قدر مخالفت کی گئی اسی قدر زور کے ساتھ اس سلسلہ کی اشاعت ہوئی اور آفاق میں اس کا نام پہنچ گیا۔“ ( ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحه (532) الہی جماعتوں کی مخالفت کی آگ ایسی آگ ہے جو بظاہر جلانے اور مسمار کرنے کے لئے بھڑ کائی جاتی ہے لیکن البہی جماعتوں کے لئے یہ آگ جلانے کی بجائے بے نظیر شیر میں شمر پیدا کرنے والی ثابت ہوتی ہے۔یہ درست ہے کہ ان ملاؤں کی کتب نے وقتی طور پر عرب ممالک میں احمدیت کی مخالفت کا بازار خوب گرم کیا۔وسائل کی کمی اور تبلیغ کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے جماعتی لٹریچر ا کثر لوگوں تک نہ پہنچ سکا کہ وہ جماعت کے نقطہ نظر اور عقائد و تعلیم کے متعلق بھی آگاہی حاصل کر سکتے اور حق و باطل میں خود ہی تمیز کر سکتے۔لہذا یہ اعتراضات مخالفین کے زبان زد عام ہو گئے اور ہر امیرا غیرا یہی اعتراضات دہراتا رہا۔ان اعتراضات کی اکثریت یا تو جھوٹ پر مبنی تھی یا مختلف تحریرات کو سیاق سے کاٹ کر وجہ اعتراض پیدا کی گئی تھی۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے زمینی روکیں اٹھا دیں اور انٹرنیٹ اور ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعتی علوم ہر خاص و عام تک پہنچنے لگے تو مخالفین