مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 90
76 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ان ملاؤں میں سر فہرست مودودی صاحب تھے۔جنہوں نے نہ صرف اُردو میں جماعت کے خلاف اعتراضات کے مجموعہ پر مشتمل کتاب شائع کی بلکہ اس کا عربی ترجمہ بھی طبع کروا کے بلا دعر بیہ میں نشر کر دیا۔اسی طرح ایک رسالہ ابوالحسن الندوی صاحب نے بھی عربی زبان میں شائع کیا۔آج تک جماعت کے خلاف جس قدر اعتراضات ہورہے ہیں ان میں سے شاید 99 فیصد کا تعلق ان برصغیر کے ملاؤں کی کتب سے ہے۔شام میں مکرم منیر الحصنی صاحب نے مودودی صاحب کی کتاب کا عربی میں جواب المودودی فی المیز ان کے نام سے شائع کی جس سے مولویوں کی مخالفت میں اضافہ ہو گیا۔یہ کتاب مختلف ممالک کو بھجوائی گئی۔دمشق کے علماء نے حکومت کو درخواست دی کہ جماعت احمد یہ ہے اور یہ چندہ جمع کرتے ہیں اس لئے ان کی سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔چنانچہ ان کے دباؤ پر مفتی جمہوریہ نے فتویٰ دیا کہ احمدی ایک خلیفہ کی بیعت کرتے ہیں جو کہ نا جائز امر ہے کیونکہ اب کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اس فتویٰ اور دباؤ کے تحت شام کی حکومت نے جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلہ دے کر جماعت پر پابندیاں لگا دیں۔اس کے بعد مودودی صاحب نے شام کا دورہ کیا تو جماعت احمدیہ کے خلاف ایک منصوبہ تیار کیا گیا اور شام کی حکومت نے دمشق میں جماعت کے مرکز زاویہ اٹھنی کو سر بمہر کر دیا۔اور علماء کے زیر اثر حکومت نے احمدیوں کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔شام سے کچھ مخالفین لبنان جا کر بھی احمدیوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہے لیکن جماعت احمد یہ شام یہ ابتلاء بڑی ہمت سے برداشت کرتی رہی۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ ) کیسے کیسے ہیں ثمر اس آگ نے پیدا کئے شاید کوئی ہٹ دھرم مخالف اس بات کو بھی اپنے لئے باعث فخر قرار دیدے کہ اس کی تی کوششوں سے بلاد عربیہ کے کئی ممالک میں جماعت احمدیہ کے مراکز بند ہو گئے۔اور شاید کسی قاری کے ذہن میں بھی یہ خیال گزرے کہ جماعت احمد یہ اگر سچی ہے تو مخالفوں کے مقابلہ میں اسے کامیابی نصیب ہونی چاہئے تھی نہ کہ مخالف ان کے مراکز بند کرانے میں کامیاب ہو جاتے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسی قدر تفصیل سے اس کا جواب بھی درج کر دیا جائے۔