مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 89 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 89

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم اور آپ کے مشن کا ذکر بڑی دلچسپی سے سنتے رہے۔میں نے انہیں آپ کے مشن کی کامیابیوں کی بابت بتایا۔آپ اور آپ کے سوئٹزر لینڈ میں کار ہائے نمایاں کے لئے اپنے ممنونیتی کے جذبات کا اظہار ایک حقیر خدمت ہے جو میں بجالائے بغیر نہیں رہ سکتا۔(از الفضل 24 اپریل 1970 صفحہ 3) سپین مشن کے تحت عرب حکمرانوں کو تبلیغ احمدیت 75 71- 1970 میں سپین مشن کی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ سپین سے باہر افریقہ اور مشرق وسطی تک وسیع ہو چکا تھا۔چنانچہ اس مشن کی طرف سے بعض عرب حکمرانوں کو جماعتی لٹریچر ارسال کیا گیا جس کی کسی قدر تفصیل یوں ہے: سفیر مصر مصطفی لطفی» سفیر شام ”نشاة الجسی“ سفیر مراکو، نمائندہ لیبیا، نمائندہ الجزائر، نمائندہ موریطانیہ کو اسلامی اصول کی فلاسفی (عربی)، اسلام کا اقتصادی نظام (عربی)، نحن مسلمون (عربي)، سفينة نوح، دعوة الأحمدية وغرضها اور دیگر کتب اور پمفلٹ پیش کئے گئے۔ان ممالک کے سفارتی عملہ کے باقی ممبروں کو بھی سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کے لئے دیا گیا اور کتاب "لماذا أعتقد بالاسلام کی وسیع تقسیم کی گئی ہے۔علاوہ ازیں انور سادات (صدر مصر ) - بومحی الدین (صدر الجزائر )۔حسن ثانی (والی مراکش)۔حبیب بورقبیہ (صدر تونس)۔میجر جنرل جعفر نمیری (صدر سوڈان)۔کرنل قذافی (صدر لیبیا)۔جنرل حافظ الاسد (صدر شام کو بھی "فلسفة الاصول الإسلامية“ ”نظام الاقتصاد في الإسلام“ ”سفينة نوح “۔”دعوة الأحمديه وغرضها، وغیرہ عربی لٹریچر از تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 69) بھجوایا گیا۔مزرعہ کامیابی کے لئے کھاد ہم ذکر کر آئے ہیں کہ خلافت ثالثہ کے عہد مبارک میں بلاد عربیہ میں جماعت کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور مخالفین کی سرتوڑ کوششوں سے کئی جگہ جماعت کے مراکز بھی بند کر دیئے گئے۔ان میں سے ایک شام کا مرکز بھی تھا۔مقامی علماء کی طرف سے یہاں مخالفت تو تھی لیکن جس نے اسے ہوا دی یا جلتی پر تیل کا کام کیا وہ پاکستان کے شر پسند مُلاں تھے جنہوں نے یہاں آکر جماعت کے خلاف زہر پھیلانا شروع کیا۔