مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 88
74 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کا قطعاً یقین نہیں کہ خدا آپ کی دعائیں سنے گا۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھیں۔آپ نے دس منٹ کا مطالبہ کیا تھا اور اب نصف گھنٹہ ہونے کو ہے اور مجھے اور بھی مصروفیات ہیں۔اس طرح یہ بلند و بانگ دعا دی کرنے والے عظیم مسیحی مناڈ اسلام اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں اور غلاموں کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کر سکے اور اپنے عمل سے صداقت اسلام پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔از تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 156 تا 159 ) سفیر جمہوریہ متحدہ عربیہ کی الوداعی دعوت 1970ء میں سوئٹزر لینڈ میں مکرم مشتاق احمد صاحب باجوہ مبلغ سلسلہ کے طور پر خدمت کی پارہے تھے۔ان کے بعض عرب سفراء کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے جن میں سے ایک ہز ایکسی لینسی سید توفیق عبد الفتاح سفیر جمہوریہ متحدہ عربیہ بھی تھے جو کئی مرتبہ جماعت کی مسجد میں تشریف لا چکے تھے۔جب ان کی سوئٹزر لینڈ سے تبدیلی ہوئی تو مبلغ احمدیت نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی دعوت دی جس میں تقریر کرتے ہوئے سفیر جمہوریہ متحدہ عرب نے کہا: سوئٹزر لینڈ میں میرے پہلے سال کے قیام کے دوران مجھے زیورچ میں مسجد کا علم نہ تھا، اس کے بعد مجھے ایک لبنانی ڈاکٹر سے مسجد کا علم ہوا اور ان کی تحریک پر ہم عید الاضحی کی تقریب میں شریک ہوئے اس کے بعد میں آتا رہا اور امام مسجد نے ہمیشہ مجھے خوش آمدید کہا۔یہاں ہمیں بہت سے سولیس اور دوسرے مسلمانوں سے تعارف کا موقعہ ملا جن کے ساتھ اب ہمارے بہت اچھے تعلقات استوار ہو چکے ہیں اور بڑا اچھا رابطہ قائم ہو چکا ہے۔جب بھی امام صاحب نے مجھے بلایا میں نے کبھی آنے میں تامل نہیں کیا۔امام صاحب کی سرگرمی عمل کو میں شدت سے محسوس کرتا رہا ہوں اور اس مجلس میں اپنے ان جذبات کے اظہار سے مجھے از حد خوشی ہورہی ہے۔امام صاحب! میں پھر آپ کے اس پر تپاک welcome کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ مجھے ہمیشہ یادر ہے ہیں اور کبھی نہیں بھولے، جب مجھے قاہرہ جانے کا موقعہ ملا تو میں نے وہاں بھی آپ کا ذکر خیر کیا۔الا زہر کے امام سے بھی کئی دفعہ آپ کے متعلق بات ہوئی اور میں نے انہیں آپ کے مشن کی کارگزاری سے آگاہ کیا۔وہ آپ کا