مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 39 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 39

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول السلام کی خدمت میں عرض کئے پھر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے ان کو نجات دی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ: ” خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے جب تک آنکھ نہ کھلے انسان کیا کر سکتا ہے“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 173) حضرت اقدس کے ایماء پر عبد الله العرب صاحب نے کشتی نوح کے چند اوراق ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 166) 39 39 کا ترجمہ عربی زبان میں کیا اور پھر حضرت اقدس کو سنایا تو حضرت اقدس نے فرمایا: اگر یہ مشق کر لیں کہ اُردو سے عربی اور عربی سے اردو ترجمہ کر لیا کریں تو ہم ایک عربی پرچہ یہاں سے جاری کر دیں۔سید عبد الله العرب صاحب نے ایک رسالہ ایک شیعہ علی حائری کے رد میں عربی زبان میں لکھا تھا جس کا نام سبیل الرشاد رکھا تھا، جب یہ رسالہ انہوں نے حضرت اقدس کو سنایا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ ساتھ ساتھ اُردو ترجمہ بھی کرتے جاؤ تا کہ تم کو مشق ہو مگر عرب صاحب کو جرات نہ ہوئی کہ اتنی مجلس میں ترجمہ ٹوٹی پھوٹی اُردو میں سناویں۔یہ رسالہ سن کر حضرت اقدس نے تعریف کی کہ: عمدہ لکھا ہے اور معقول جواب دیئے ہیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 168-169) 10 ستمبر 1901ء کو سید عبد اللہ عرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں؟ فرمایا: مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔عرب صاحب نے عرض کیا وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔فرمایا: ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔فرمایا: تم خدا کے بنو۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔از ملفوظات جلد 2 صفحہ 343)