مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 38 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 38

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 38 38 حضرت عبد الله العرب صاحب آپ کا زمانہ بیعت بھی 1891ء سے 1893ء کے درمیانی عرصہ کا ہے کیونکہ آپ کا ذکر حضرت اقدس نے حَمَامَةُ الْبُشْری میں فرمایا ہے جو کہ 1893ء کی تصنیف ہے۔آپ بہت بڑے تاجر تھے اور بلا دسندھ کے ایک بہت مشہور پیر جن کا نام پیر صاحب علم تھا ، کے مرید خاص تھے۔ان پیر صاحب کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی (یہ) پاکستان کے مشہور سیاسی لیڈر پیر صاحب پگاڑا کے آباء میں سے تھے )۔ان پیر صاحب کو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو انہوں نے آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں دریافت کیا کہ کیا یہ شخص سچا ہے یا جھوٹا؟ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خواب میں جواب دیا کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔اس پر ان پیر صاحب نے اپنے دو خاص مرید عبد اللطیف اور عبد الله العرب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جو آپ سے فیروز پور میں ملے اور عرض کی کہ اس طرح ہمارے پیر صاحب علم نے خواب میں دیکھا ہے اور انہیں آپ کی صداقت میں ادنیٰ شک بھی نہیں رہا لہذا انہوں نے ہمیں آپ کی خدمت میں بھیجا تا یہ عرض کریں کہ ہم آپ کے حکم اور اشارہ کے غلام ہیں جیسے آپ ارشاد فرمائیں گے ہم ویسا کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر آپ ہمیں یہ فرمائیں کہ جاؤ امریکا کی سرزمین کی طرف سفر کرو تو ہمیں اس میں ذرا بھی تأمل نہیں ہوگا بلکہ آپ اس معاملہ میں ہمیں کامل اطاعت کرنے والا پائیں گے۔(ماخوذ از حمامة البشری، روحانی خزائن جلد 7 صفحه 309-310 حضرت عبد الله العرب صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں آ کر ر ہے۔ان کا سابقہ مسلک شیعہ تھا اور جب احمدیت قبول کی تو کئی دفعہ اپنے سابقہ عقیدہ پر بہت پشیمان ہوتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے اپنے شیعہ عقیدہ ” تقیہ کے حالات حضرت مسیح موعود علیہ