مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 563
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 537 اُردن جانے کا بھی اتفاق ہوا اس کے بارہ میں آپ اپنی خود نوشت ” تحدیث نعمت“ میں تحریر فرماتے ہیں: تہران میں اُردن کے سفیر تشریف لائے اور فرمایا میری حکومت کی طرف سے مجھے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ میں اس کی طرف سے آپ کو یہاں سے دمشق واپس جانے پر عمان آنے کی دعوت دوں۔میں نے عذر کیا کہ مجھے اب جلد کراچی پہنچنا ہے۔دوسرے دن وہ پھر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تمہارا عذر عمان پہنچا دیا تھا وہاں سے مجھے ہدایت ہوئی ہے کہ میں تمہیں جلالۃ الملک کا ذاتی پیغام پہنچاؤں کہ ان کی خواہش ہے کہ تم اس موقع پر عمان ضرور آؤ۔میں نے عرض کیا کہ اب تو سوائے تعمیل ارشاد کے کوئی چارہ نہیں میں ضرور حاضر ہوں گا۔“ جلالۃ الملک حسین ابن طلال بن عبد اللہ بڑی محبت اور احترام سے پیش آئے۔فرمایا ہم سب تہہ دل سے تمہارے ممنون ہیں کہ تم نے قضیہ فلسطین کی ابتدا سے نہایت جرات اور دانشمندی سے ہمارے حقوق کا دفاع کیا ہے اور جب حال ہی میں اسرائیلیوں نے سخت ظلم اور تعدی سے قبیبہ کا عرب گاؤں ہماری حدود کے اندر بیجا مداخلت کر کے برباد کر دیا تو تم نے خود مجلس امن میں پیش ہو کر اسرائیلیوں کی مکاریوں اور فریب کاریوں کا پردہ فاش کیا۔میں نے عرض کیا پاکستان قضیہ فلسطین کو اپنا اور سارے عالم اسلام کا قضیہ سمجھتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ جو مدد اور خدمت اس بارے میں ہمارے امکان میں ہو اس سے دریغ نہ کریں۔جب قبیہ پر اسرائیلی یورش کا مسئلہ مجلس امن میں زیر بحث آیا تو پاکستان کا فرض تھا کہ حق اور انصاف کی پوری حمایت کرے۔بے شک مجلس امن کی روایت ہے کہ عموماً ہر رکن کا مقرر کردہ مستقل نمائندہ ہی اس کی طرف سے مجلس امن میں تقریر کرتا ہے۔لیکن امور خارجہ میں ہر ملک کا اصل نمائندہ تو وزیر خارجہ ہی ہے۔میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر میں خود پاکستان کی طرف سے مجلس میں نمائندگی کروں۔جلالۃ الملک سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں۔ہر دفعہ بڑی محبت سے پیش آئے۔ایک ملاقات میں تو صرف میں حاضر خدمت تھا ، بلا تکلف عرب اور عالم اسلام کے اہم مسائل پر گھنٹہ بھر سے زائد گفتگو رہی۔دوسرے دن شام کے کھانے پر وزراء اور سفراء اور کثیر تعداد شرفاء کی مدعو تھی۔کھانے کے بعد جلالۃ الملک نے کمال شفقت سے ”ستارہ اردن کا سب سے اعلیٰ نشان مجھے مرحمت فرمایا۔“ تحدیث نعمت صفحه 610 تا 612)