مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 549
00000 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مغربی طاقتوں کی چھاتی پیٹ رہا ہوں۔“ 523 حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں: ہماری طرف سے خوشی کا اظہار تو لازم تھا ہی لیکن معلوم ہوتا ہے میرے اعصاب پر پہلے چند دنوں کی پریشانی اور اضطراب کا بوجھ تھا۔میری طبیعت قابو میں نہ رہی اور میں جوش سے ا اپنے سامنے کے ڈیسک کو زور زور سے متواتر پیٹنے لگا۔کرنل عبد الرحیم (اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے) نے آہستہ سے مجھے کہا: چوہدری صاحب کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: مغربی طاقتوں کی چھاتی پیٹ رہا ہوں۔کئی دن تک میرے دونوں ہاتھ اس ڈیسک کو بی کی وجہ سے متورم رہے۔اس طرح طرابلس کی نگرانی اٹلی کے سپرد نہ ہو سکنے کی وجہ سے لاطینی امریکن ریاستوں کی طرف سے قرارداد کی بقیہ شقوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ ساری قرار دادر ڈ ہو گئی۔لیبیا کی آزادی کا پروانہ حضرت چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں: اجلاس ختم ہونے پر میں کراچی واپس آ گیا۔کچھ دنوں بعد اطالوی سفیر متعینہ پاکستان مجھ سے ملنے آئے اور اپنے وزیر خارجہ ( کونٹ سفورزا) کا ایک خصوصی پیغام میرے نام لائے۔کونٹ سفورزا نے کہلا بھیجا ہمیں قرار داد کے رڈ ہو جانے پر کوئی رنج نہیں۔ہم عرب ممالک کی دوستی اور خوشنودی کے خواہاں ہیں۔اور اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں لیبیا کی فوری آزادی کی تائید کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ 1949 ء کے سالانہ اجلاس اسمبلی میں یہ قرارداد منظور ہو گئی کہ یکم جنوری 1951 ء سے لیبیا آزاد ہوگا۔اس قرارداد کے نفاذ کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس کے اراکین میں مصر اور پاکستان دونوں شامل تھے۔چنانچہ قرار داد کے مطابق یکم جنوری 1951ء کو لیبیا کی آزاد حکومت قائم ہوگئی۔فالحمد للہ“ (ماخوذ از تحدیث نعمت صفحه 567 تا 573)