مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 548 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 548

522 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول خشا با پاشا لیکن ملک تو پھر بھی تقسیم ہو جائے گا۔برطانیہ اور فرانس کو مجوزہ علاقوں کی نگرانی سپر د کر دی جائے گی۔تم خود اب تک مصر رہے ہو کہ لیبیا کی تقسیم نہیں ہونی چاہئے۔اب تم نے یکا یک اپنی رائے کیوں بدل لی ہے؟ ظفر اللہ خان: میں نے رائے نہیں بدلی۔میں اب بھی یہی چاہتا ہوں کہ لیبیا کی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔اگر میری بیان کردہ ترکیب سے تیسری شق قرارداد سے خارج ہوگئی تو کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔خشابا پاشا: وہ کیسے؟ ظفر اللہ خان : اگر ٹریپولی کی نگرانی اٹلی کے سپرد نہ ہوئی تو لاطینی امریکن ریاستیں بقیہ قرارداد کو قبول نہیں کریں گی اور تینوں شقوں پر رائے شماری کے بعد جب مجموعی طور پر ساری قرارد پر رائے شماری ہو گی تو لاطینی امریکن ریاستیں اس کے خلاف رائے دیں گی۔خشابا پاشا: ( خوشی سے اچھل کر ) خوب تجویز ہے۔میرے ذہن میں بالکل نہیں آئی۔پھر اب کیسے کیا جائے؟ وقت بہت تھوڑا ہے۔آج شام رائے شماری ہو جائے گی۔ظفر اللہ خان : لاطینی امریکن ممالک میں ہائیٹی (Haiti) ایک ایسا ملک ہے جس کا اٹلی سے کوئی تعلق نہیں۔ایک تو ان کے ساتھ کوشش ہونی چاہئے۔انکی زبان فرانسیسی ہے، آپ کے وفد میں سے کوئی صاحب ان کے ساتھ بات چیت کریں۔سر بی این راؤ ہندوستانی نمائندے 66 کے ساتھ میں بات کرتا ہوں۔“ دونوں ملکوں نے تیسری شق کے خلاف رائے دینا منظور کر لیا۔مغربی ریاستیں مطمئن نظر آتی تھیں جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ انہیں قرارداد کے منظور ہونے کا پورا یقین ہے۔رائے شماری شروع ہوئی۔پہلی شق منظور ہو گئی ، دوسری شق منظور ہو گئی ، تیسری شق پر رائے شماری ہوئی تو حاضر 58، اراکین میں سے 8 نے رائے دینے سے اجتناب کیا، باقی 150 اراکین نے رائے دی۔منظوری کے لئے کم از کم 34 آراء کی ضرورت تھی لیکن اسکے حق میں صرف 33 اور اسے خلاف 17 آراء آئیں۔کامیابی کے لئے مزید ایک رائے ان کو نہ مل سکی۔اور یوں صاحب صدر کو چارو ناچاراس شق کے نامنظور ہونے کے باعث قرار داد سے خارج ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔