مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 547
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بحث کا آخری دن اور مضطر بانہ دعا 521 بحث کا آخری دن آپہنچا اور قرارداد کے خلاف 15 آراء سے زیادہ کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔میری طبیعت میں سخت اضطراب تھا۔اسی اضطراب کی حالت میں میں نے نماز ظہر میں نہایت عجز وانکسار سے رب العالمین کی درگاہ میں زاری کی کہ الہ العالمین۔۔۔تو اپنے فضل ورحم سے ہمیں وہ رستہ دکھا جس پر چل کر ہم تیرے مظلوم بندوں کی رہائی اور مخلصی کی تدبیر کر سکیں۔تیسری رکعت کے پہلے سجدے میں جاتے ہوئے دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل اور رحم سے ایک ترکیب کی تفہیم فرما دی۔فالحمد للہ۔مصر کے وزیر خارجہ سے گفتگو جو نہی میں نے نماز ختم کی ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔اقوام متحدہ میں مصر کے مستقل نمائندے محمود فوزی صاحب نے فرمایا میرے وزیر خارجہ دریافت کرتے ہیں 'تم کب تک آنے کا ارادہ رکھتے ہو؟ وہ چاہتے ہیں کہ جلد آ جاؤ تو سہ پہر کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے کچھ مزید غور کر لیں۔میں وزیر خارجہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔انہوں نے پوچھا، کچھ مزید غور کیا ہے اور کوئی تجویز ذہن میں آئی ہے؟ میں نے کہا ہاں آئی ہے یا یوں کہئے ذہن میں ڈالی گئی ہے۔اب تک ہم اس کوشش میں رہے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے پوری قرار داد کے خلاف آراء حاصل کی جائیں۔اس کوشش کے نتیجہ میں تو ہمیں صرف 15 مخالف آراء حاصل ہوسکی ہیں جو قرارداد کے رڈ کرنے کے لئے کافی نہیں۔اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جو ممالک برطانیہ یا فرانس کی خوشنودی کی خاطر برطانیہ کو Cyrenaica ( برقتہ ) اور فرانس کو فیضان ( فوزان) کی نگرانی سپرد کرنے کے لئے مؤید ہیں ان میں سے تین چار کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اس قرار داد میں برطانوی اور فرانسیسی نگرانی والی شقوں کی تائید میں رائے دینے کے بعد تیسری شق جس میں ٹریپولی کی نگرانی اٹلی کے سپرد کرنے کی تجویز ہے کے مخالف رائے دیں۔خشابا پاشا: اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا حاصل ہوگا ؟ ظفر اللہ خان: حاصل یہ ہوگا کہ تیسری شق قرار داد سے خارج ہو جائے گی۔