مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 521 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 521

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 497 جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں (ایک علمی لیکچر ) مئی 1947ء میں شام کے مخلص احمدی مکرم منیر الحصنی صاحب قادیان میں تھے۔اس موقعہ پر آپ نے 21 رمئی 1947 ء بعد نماز مغرب زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیوں کے موضوع پر عربی میں تقریر کی۔جس کے بعد پروگرام کے مطابق دوستوں کو سوالات کا موقع دینا تھا لیکن ان کی تقریر کے بعد چونکہ وقت کم رہ گیا تھا اس لئے دوستوں کو سوالات کا موقع نہ مل سکا۔تاہم 26 مئی کو نماز مغرب کے بعد مجلس عرفان میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔السید منیر الحصنی صاحب کا لیکچر تو اُس روز ہو گیا تھا مگر سوالات کا حصہ رہ گیا تھا اس کے متعلق دوستوں کو اب موقع دیا جاتا ہے اگر دوستوں نے کچھ سوالات کرنے ہوں تو وہ کر سکتے ہیں۔اس پر تین دوستوں نے سوالات کئے اور معزز لیکچرار نے ان کے جوابات دیئے۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نہایت علمی رنگ میں بعض امور بیان فرمائے۔چونکہ ان امور کا عرب ممالک کی سیاسی وادبی تاریخ سے بہت گہرا تعلق ہے اور انکے بعض پہلوؤں پر نہایت بصیرت افروز روشنی ڈالی گئی ہے اس لئے ہم ان کو مختصرا یہاں درج کر دیتے ہیں۔حضور نے فرمایا: یہ تقریر جو منیر الحصنی صاحب نے کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کے لوگوں میں قبل از اسلام بھی بعض خوبیاں پائی جاتی تھیں اور جن دوستوں نے اعتراضات کئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ آیا یہ خوبیاں اُن عربوں میں عام تھیں یا خاص۔اگر یہ خوبیاں ان میں عام پائی جاتی تھیں تو قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم جو ہم لیتے ہیں غلط قرار پاتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي