مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 491
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 469 خطابی مقدرت اور قانون و سیاست میں مہارت کے ہر جو ہر کو آزمایا۔اس سلسلہ میں آپ کے خطابات حقیقی اسلامی روح سے معمور تھے اور اس یقین سے عبارت تھے کہ فلسطینی عوام کو پاکستانی عوام اور دنیا کی دیگر اقوام کی طرح برطانوی اور صہیونی تسلط سے آزادی کا مکمل حق حاصل ہے۔فلسطین میں عربوں کے حقوق اور اقوم متحدہ میں پیش ہونے والے ہر عربی اور اسلامی مسئلہ کے اس قابل قدر دفاع پر آپ کو ایک عربی حکومت نے یہ صلہ دیا کہ مصر کے مفتی نے آپ پر اسلام سے خارج ہونے کی تہمت لگادی بلکہ نعوذ باللہ آپ کے کفر کا فتویٰ صادر کر دیا۔کیونکہ آپ اپنے اقوال اور خطابات میں اکثر مسلمانوں کی بدحالی کا سبب مسلمان حکمرانوں کی بدحالی کو قرار دیتے تھے۔یہ بات شاہ مصر کو پسند نہ آئی چنانچہ اس ملک کے مفتی کی طرف سے وہ شرم ناک فتویٰ صادر ہوا۔تاہم مصری عوام اپنے ملک کے بادشاہ اور مفتی سے زیادہ باوفا اور قدردان ثابت ہوئے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سٹیج پر ظفر اللہ خان صاحب کھڑے ہوئے اور ایک دکھ بھرا خطاب فرمایا۔اسکے ساتھ ساتھ آپکی نظر مستقبل کی صورتحال پر بھی تھی اور اس فیصلہ کے خطرناک نتائج کے بارہ میں پیشگوئی بھی فرما رہے تھے جن کی زد سے یہ حکومتیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی جو آج فلسطین کے کھنڈرات پر یہودی حکومت کے قیام کے داعی اور اس کے لئے پر جوش ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس یوم حزین کو اپنی پر شوکت اور گرجتی ہوئی آواز میں کہا: تم یہ کہتے ہو کہ ہم اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے کہ فلسطین کا ایک حصہ لے کر اس میں یہودیوں کو بسا دیں کیونکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم ان مظلوموں کے لئے کم از کم ایسا کر دیں۔لیکن اگر یہ بات جو تم کہہ رہے ہو درست ہوتی تو تم ہماری تجاویز قبول کر لیتے اور ہر ملک ان بے وطن یہودیوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتا اور متعدد یہودیوں کو پناہ دے دیتا۔لیکن آپ سب نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا۔آسٹریلیا ایک پورا براعظم ہونے کے باوجود کہتا ہے کہ ہمارا ملک تو بہت چھوٹا ہے اور نہایت گنجان آباد ہے۔کینیڈا کہتا ہے کہ ہماری زمین بھی بہت تھوڑی ہے اور ہماری زمین تو آبادی سے معمور ہے۔اور امریکہ اپنی عظیم انسانی اقدار اور اپنی وسیع وعریض اراضی اور بے شمار وسائل کے باوجود کہتا ہے کہ نہیں یہ تو کوئی مناسب حل نہیں ہے۔میں نصیحت کرتا