مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 490
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 468 لكم لا تحطموا بأيديكم مصالحكم في تلك البلاد العربي العدد ۲۹۵ یو نیو ۱۹۸۳ ص ۴۵ الی ۴۹) محمد ظفر اللہ خان صاحب ( جو اُس وقت وزیر خارجہ پاکستان تھے اور اقوام متحدہ میں ہیں سال تک ایک مشہور و معروف شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے رہے ) کی آواز ہر عربی اور اسلامی قضیہ میں انکے عظیم الشان مواقف کی وجہ سے نمایاں رہی خواہ وہ فلسطین کا مسئلہ ہو خواہ کشمیر کا ، خواہ اریٹریا کا ہو یا الجزائر کا، یاوہ کسی بھی مصیبت زدہ اور مظلوم اقوام کا مسئلہ ہو۔ظفر اللہ خان صاحب میں تین صفات ایسی تھیں کہ جنکی بدولت وہ اقوام متحدہ میں سب سے نمایاں شخصیت کے مالک بن گئے تھے۔آپ کی ملکی سیاست میں کام کرنے کی ایک لمبی تاریخ تھی۔نیز آپ ایک قادر الکلام خطیب اور بے مثال وکیل تھے، اسی طرح عالمی اور اسلامی قوانین پر دسترس اور عبور رکھنے کی وجہ سے آپ ان دونوں قوانین میں ایک معتبر حوالہ متصور ہوتے تھے۔لیکن جہاں تک آپ کے اپنے ملک کی سیاست میں کردار کا تعلق ہے ہے تو شاید آپ ان تین اہم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی تحریک کی قیادت کی۔۔۔۔اور جہاں تک آپ کی قانونی مقدرت کا تعلق ہے تو اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی وجہ سے بعد میں آپ عالمی عدالت انصاف کے حج اور پھر کئی سالوں تک اس کے صدر بننے کے اہل قرار پائے۔آپ ایک متدین مسلمان تھے ، اور اقوام متحدہ کی بلڈنگ کے دروازے کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں وقت کی پابندی کے ساتھ نماز میں ادا کیا کرتے تھے۔آپ قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ آپ حقیقی اور صحیح معنوں میں دین اسلام پر کار بند تھے۔جہاں تک آپ کی قوت خطابت کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ چھ گھنٹوں تک مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے موضوع پر مسلسل خطاب فرماتے رہے اور حاضرین پوری توجہ کے ساتھ ہمہ تن گوش رہے، اس خطاب کو سننے کے لئے سلامتی کونسل میں دو نشستیں مخصوص کرنی پڑیں۔محمد ظفر اللہ خان ہی وہ شخص ہے کہ جو فلسطین کے حق کے دفاع میں مرد میدان ثابت ہوا۔اس نے فلسطین کے بارہ میں عربوں کے حقوق کے دفاع میں خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے