مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 484
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 462 احمد فواد کے حق میں دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم علی ماہر پاشا اس سلسلہ میں ہے کارروائی کریں۔فاروق رأس التین کے محل سے یہ پروانہ 26 جولائی 1952ء کو جاری کیا گیا۔عجیب اتفاق بعض اخبارات کے بقول محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف شاہ فاروق نے فتویٰ اس لئے صادر کروایا تھا کیونکہ چوہدری صاحب نے یہ کہا تھا کہ مسلمان حکومتوں کے سر برا ہوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو رواج دیں اور اسلامی قوانین کی پابندی کریں تا ان کی راستباز زندگی ان کی قوموں کے لئے نمونہ ہو۔دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ اگر حکمران صحیح اسلامی تعالیم پر کار بند نہیں ہوں گے تو ان کی رعایا بھی ان کے ہمرنگ ہو جائے گی۔اب دیکھیں کہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ شاہ فاروق کی معزولی کے پروانہ میں جو فرد جرم عائد کی گئی ہے اس میں یہی مذکورہ بالا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔پروانہ معزولی میں شاہ فاروق کی سیاہ کاریوں کا ذکر کر کے عوام کی اخلاقی و دینی گراوٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور آخر میں نتیجہ مندرجہ ذیل الفاظ میں نکالا ہے کہ : ایسے حالات کیوں نہ رونما ہوتے جبکہ عوام اپنے بادشاہوں کی عادات و خصائل کو ہی اختیار کرتے ہیں۔“ شاید شاہ فاروق کو اس وقت سمجھ آگئی ہو کہ جس عمومی نصیحت سے زچ ہو کر انہوں نے ایک مؤمن کو دائرہ اسلام سے خارج کروانے کی کوشش کی تھی اسی نصیحت کے نہ ماننے کے جرم میں خود انہیں اپنی مملکت کی حدود سے تہی دست ہو کر نکلنا پڑا۔جلا وطنی کا دردناک منظر شاید قارئین کرام جانا چاہیں گے کہ شاہ فاروق کا انجام کیا ہوا؟ شاہ فاروق اپنی معزولی پر دستخط کرنے کے بعد بوقت شام سکندریہ سے اپنے بحری جہاز