مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 478 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 478

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 456 مذہبی لوگ خدمت دین کے لئے پیدا کئے گئے ہیں سیاسی امور میں دخل دینا ان کا کام رانی نہیں۔اگر ظفر اللہ خاں مختلف اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقے (یعنی جماعت احمدیہ ) کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو یہ امران کو کا فرنہیں بناتا۔وہ ایمان بالله وملئكته وكتبه ورسله کے قائل ہیں۔وہ اسلامی ارکان پر پوری طرح عامل ہیں۔کیا مفتی کے لئے جائز ہے کہ وہ ان مسلمانوں پر بھی کفر کا فتویٰ لگائے جو دین اسلام پر عمل پیرا ہوں؟ شیخ مخلوف مسلمانوں کی صفوں میں انتشار برپا کر رہا ہے اور ایسے وقت میں تفرقہ کی اشاعت کر رہا ہے جبکہ انہیں اتحاد کی بے حد ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کافروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دین۔مفتی مصر کو کیا ہو گیا کہ وہ احمدی مسلمانوں کو مخاطب کر رہا ہے اور ان پر کفر کا اتہام لگا رہا ہے۔جس نے مومن کو کافر کہا وہ خود کافر ہوا۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ اہل مصر بالخصوص اور دیگر مسلمان بالعموم قرونِ وسطی کی جمود انگیز اور غیر ترقی پذیر روش سے خلاصی حاصل کریں۔شیخ مخلوف اور ظفر اللہ خاں کے درمیان نمایان فرق ہے۔اول الذکر مسلم غیر عامل ہے۔اور اگر شیخ مذکور عمل کرتا بھی ہے تو تفرقہ انگیزی کے لئے ، برخلاف اس کے ظفر اللہ خاں مسلم عامل الخیر ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیات میں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔آہ ! ایمان اور عمل صالح کے باوجود مسلمانوں کو کافر قرار دینا کتنا ہی دُور از عقل ہے۔بیروت المساء بحوالہ روز نامہ الفضل لاہور مورخہ 10 روفا 1331 ء ہش مطابق 10 جولائی 1952 ء صفحہ 8) مفتی مصر کے لقب کی منسوخی کا مطالبہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر مفتی مصر کے فتویٰ تکفیر پر صرف تنقید ہی نہیں کی گئی بلکہ مشہور و معروف مصری مصنف ڈاکٹر احمد ذکی بک نے مطالبہ کیا کہ مفتی مصر“ کے لقب کو حکومت آئندہ کے لئے منسوخ قرار دیدے۔آپ نے کہا۔مفتی مصر نے کس حیثیت سے خارجی مسائل اور معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے وزیر خارجہ پاکستان کے متعلق کفر کا فتویٰ صادر کیا ہے ؟ اور اسے حق کیا پہنچتا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان سے موصوف کو اس عہدہ جلیلہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرے جبکہ