مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 477 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 477

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 455 الا شاعت روز نامہ بیروت المساء“ نے لکھا:۔ہم وزیر خارجہ پاکستان السید محمد ظفر اللہ خاں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔بیروت میں ان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ہم نے ان کا فصاحت و بلاغت سے پر لیکچر بھی سنا۔آپ کا لیکچرسن کر ہمارا متاثر ہونا لازمی تھا جبکہ اقوام متحدہ کی مجالس آپ کی زور دار تقاریر سن کر ورطۂ حیرت میں پڑ چکی تھیں۔ہم نے آپ کو قرآن مجید کے علوم بیان کرتے ہوئے سنا جس میں آپ نے شاعر کا یہ قول بھی بیان فرمایا:۔وكل العلم في القرآن لكن تقاصر منه أفهام الرجال " تمام علوم قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن عام لوگوں کے فہم انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔پھر ہم نے آپ کو پالم تپیش ہوٹل میں نماز تہجد پڑھتے اور عبادت کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے آپ کے پیچھے نماز میں آپ کے ساتھی بھی تھے۔پھر ہم نے دیکھا کہ آپ اسلامی حکومتوں کے وزراء اعظم کی ایک کانفرنس منعقد کرنے میں کوشاں ہیں۔پھر آپ نے مصر کی امداد اور تائید و حمایت کیلئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔اسی طرح مسئلہ تیونس کے متعلق اسلامی مفادات کے تحفظ میں آپ جس طرح سینہ سپر ہوئے وہ بھی ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔یقیناً ظفر اللہ خاں ایک مفکر دماغ کے حامل ہیں اور آپ ترقی پذیر پاکستانی مملکت کے لئے لسان ناطق کا درجہ رکھتے ہیں۔اس مملکت کے لئے جس کی مسلم آبادی آٹھ کروڑ نفوس سے بھی متجاوز ہے۔جس نے قرآن کریم کو اپنا دستور بنایا ہوا ہے اور جہاں عربی زبان کو ممتاز درجہ بر شمار کیا جاتا ہے۔اس ہمسایہ مملکت کو جو ایشیا میں تعمیر و ترقی کا علم بلند کر رہی ہے اور جو عربوں کے تمام مسائل میں خلوص نیت اور صدق دلی سے ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔عرب دنیا کے ایک وسیع حصہ کی طرف سے ایک طعنہ دیا گیا ہے۔ہماری مراد اس سے مصر ہے۔ہاں مفتی صاحب نے جہالت کا ثبوت دیا ہے۔اس کا منصب صرف دینی ہے۔اس کا کام لوگوں کو کافر قرار دینا نہیں ہے جس نے مومن کو کا فرکہا وہ خود کافر ہوا۔آہ! اس نے یہ فتویٰ دے کر، کہ پاکستان کا وزیر خارجہ کا فر ہے اور یہ کہ پاکستانی حکومت پر واجب ہے کہ وہ ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے الگ کر دے انتہائی غفلت کا ثبوت دیا ہے۔