مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 476
454 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل سپرد ہونے پر سنبھالا اور ان کے اسلامی طریق کار کو جاری رکھا۔اس طرح اس نوزائیدہ مملکت کو عصر حاضر کی ترقی یافتہ صف میں لاکھڑا کیا۔پاکستان کی ہر دو ( مذکورہ بالا ) بڑی شخصیات نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی اقتداء میں جو روایات قائم کی تھیں ان کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ مزید چار چاند لگا دیئے۔امریکہ اور یورپ کے عالمی سیاسیات کی شہرت کے مالک ان کی قدر و منزلت محض نمائش کے طور پر نہیں کرتے بلکہ ان کی ذاتی خوبیوں کے مداح ہونے کی صورت میں نہایت قدر کی نگاہ سے ان کو دیکھتے ہیں۔انہیں یہ بھی علم ہے کہ آپ اپنی لیاقت اور قابلیت کی بدولت اطراف عالم میں کس احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔وہ اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ آپ مشرقی محاسن کے آئینہ دار ہیں اور سلامتی کی دعویدار، نئی دنیا میں ، آپ دو متقابل و متحارب بلاکوں میں تیسرے گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ ہیں وہ ظفر اللہ خاں !! جن کو تکفیر کا نشانہ بنایا گیا ہے حالانکہ تنہا آپ ہی ہیں جو اقوام متحدہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر فریضہ نماز اس کے وقت میں ادا کرتے ہیں اور اس غرض کے لئے اقوام متحدہ کے ہال میں کوئی علیحدہ جگہ تلاش کرتے ہیں تا کہ امت اسلامیہ کی نصرت طلب کرنے کے لئے خدا کی جناب میں سجدہ ریز ہوسکیں۔مصری لیڈر السید مصطفی مومن کا بیان مصر کی وفد پارٹی کے ایک راہنما اور شعوب المسلمین کے مندوب السید مصطفی مومن نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کی خدمات صرف پاکستان کے وزیر خارجہ کی نہیں ہیں بلکہ آپ مشرق وسطی اور بالخصوص مصر اور عرب دنیا کے بھی وزیر خارجہ ہیں۔وہ بہت بڑے مدبر ہیں انہوں نے اقوام متحدہ میں تیونس ، مراکش، ایران اور مصر کی حمایت کر کے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔چوہدری صاحب پر حملہ پوری اسلامی دنیا پر حملہ ہوگا۔روزنامه آفاق (لاہور) 25 مئی 1952 تلخیص از تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 175-176) بیروت پریس مصر کے علاوہ بیروت کے پریس نے بھی فتویٰ پر تنقید کی چنانچہ بیروت کے کثیر