مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 475
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 453 اشاعت اس اتہام کے رد میں کی ہے جسے مصر کے علماء عظام میں سے ایک نے عوام کی خلاف کی توقع مشرق کی عظیم شخصیت محمد ظفر اللہ خاں پر عائد کیا تھا۔اس اتہام سے قبل شاید پاکستان اس امر سے واقف نہ تھا کہ مصر پاکستان کے لئے دل کی گہرائیوں سے محبت، خلوص اور ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے اور عالمی اخوت کا بھی حامل ہے۔دونوں ایک جیسے مقاصد رکھتے ہیں۔عربوں میں کیا خوب یہ کہاوت ہے کہ بسا اوقات ضرر رساں اشیاء بھی مفید مطلب ہو جایا کرتی ہے۔پاکستان کے مصری دوست ظفر اللہ خاں کے مقام کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔بین الاقوامی سوسائیٹیوں میں وہ قضیہ مصر کے بلند پایہ ارکان میں سے ہیں اور دنیا کی ان عظیم ترین شخصیتوں سے ایک ہیں جنہوں نے مصر کی خاطر اپنی ذات ، وقت اور وطن تک کو وقف کر رکھا ہے۔استعماریت کا مقابلہ کھلم کھلا اور بڑی جرات سے کرتے ہیں۔اس شخص کے وجود میں اور بھی کئی خوبیاں موجود ہیں۔یہ سب باتیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ نہ صرف آپ کے خلاف بات کرنے سے گریز کیا جائے بلکہ آپ کی گرانقدر خدمات کو سراہا جائے اور ان کے بارہ میں انصاف سے کام لیا جائے۔محمد ظفر اللہ خاں عصر حاضر میں دولت اسلامیہ کی نہایت درجہ بلند پایہ اور ممتاز شخصیتوں سے ایک ہیں بلکہ سرفہرست ان ہی کا اسم گرامی آتا ہے۔آپ ہی وہ شخص ہیں جس نے سیاست کا مطالعہ تو اچھی طرح کیا ہے لیکن نظری سیاست کے اصولوں کو اپنایا نہیں بلکہ سیاسی ثقافت کو قرآنی انداز فکر کے تابع اور ہم آہنگ کر دیا ہے۔آپ نے ایسا اسلامی نظریہ اختیار کیا ہے جو عصر حاضر کے افکار کی آراء اور اسلامی نظریات پر مشتمل ہے۔ظفر اللہ خاں کو اقتصادیات پر وسیع نظر حاصل ہے۔آپ نے اقتصادیات کا نہ صرف مطالعہ کیا ہے بلکہ ایک بڑی قوم کا جس کے اغراض و مقاصد وسیع تر ہیں اور جو ابھی ابھی استعماری اقتصادیات کے بھنورے نکلی ہے بجٹ تیار کیا ہے۔اقتصادی نظام میں آپ علم اقتصادیات پر صرف انحصار نہیں کرتے بلکہ اقتصادی ثقافت کو اسلامی تعلیم کے تحت لے آتے ہیں۔دولت اسلامیہ کی تعمیر میں آپ کا یہ نظریہ ہے کہ افراد کے فرائض اور حقوق حکومت کے حق میں کیا ہیں اور حکومت کے فرائض اور حقوق افراد کے حق میں کیا ہیں؟ ظفر اللہ خاں وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے حکومت کے جھنڈے کو اٹھایا اور پاکستان کی خارجہ سیاست کو حکومت کے دو بڑے وجودوں محمد علی جناح اور لیاقت علی خاں کی طرف سے