مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 470 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 470

448 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کے محدود کرنے والا ہونا چاہئے کہ اس کو کس حد تک اجتہاد کرنا چاہئے۔چونکہ مطالبات کی دار الافتاء میں آتے ہیں اس لئے کوئی فتویٰ اس وقت تک صادر نہ کیا جائے جب تک اس کو مجلس افتاء کے سامنے پیش نہ کیا جائے جو مذاہب اربعہ کے آئمہ پر مشتمل ہو۔اخبار الْجَمْهُورِ المِصْرِى “ کا بیان اخبار الجمهور المصری ( 21 / جولائی 1952ء) نے ایک شذرہ میں لکھا:۔ہم اس امر کی وضاحت کرنا پسند کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر احمد شبلی پروفیسر فواد الاول یونیورسٹی کی رائے کی تائید کرتے ہیں کہ مفتی مصر کا فتویٰ برطانیہ کی چال ہے اور ان برطانوی اخبارات کی سازش ہے جو عربی زبان میں مصر میں شائع ہوتے ہیں۔عوام کے تصور سے یہ مسئلہ کہیں گہرا ہے۔دھوکہ کی بنیاد۔یہ واضح حقیقت ہے کہ ظفر اللہ خاں نے جو تمام دنیا کے مسلمانوں کے معاملات میں دفاع کیا ہے اس نے انگریزوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اور اس کی دلیرانہ آواز نے انگریزوں کو پریشان کر دیا ہے اور ان کو اس امر کا خوف ہے کہ پاکستان مضبوط ہاتھ ہو جائے گا جو ہر جگہ مسلمانوں کے معاملات میں ان کو سہارا دے گا۔ظفر اللہ خاں نے کہا ہے کہ پاکستان ہرگز اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا چاہے عرب لیگ اس کو تسلیم کرے۔اس وجہ سے انگریزوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے خلاف سازش کی تا کہ وہ مصر اور مشرق کو اس پاکستانی بڑے لیڈر کی تائید سے محروم کر دے۔الدكتور اللبان بک کا بیان الدكتور ابراهیم اللبان بک پرنسپل کلیہ دار العلوم المصریہ نے لکھا:۔مجھے انتہائی افسوس ہے کہ عرب حکومتوں نے ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان جیسی شخصیت کو تکلیف دی جس نے عرب حکومتوں کے دفاع میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جس کی وجہ سے اس نابغہ اور مثالی شخصیت کی تائید اور دوستی سے محروم ہو گئے ہیں حالانکہ آج کے عالمی سیاسی تنازعہ اور خطر ناک بحران میں عرب حکومتیں ظفر اللہ خاں کی شجاعت ، بلاغت اور آپ کے دفاع کی بہت ضرورت محسوس کرتی ہیں۔المصری 27 /جون 1952ء)