مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 467 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 467

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 445 فتوی کسی مخصوص اور غیر مبہم واقعہ سے متعلق ہونا چاہئے اور پھر ایسی صورت میں بھی اس کی حقیقت محض ایک رائے سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور نہ ہر شخص کے لئے اس کا تسلیم کرنا واجب اور لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔اسلام نے علماء کے ذریعہ کسی کلیسائی نظام کی بنیاد نہیں ڈالی جولوگوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر سکے۔بلاشبہ اس رائے کی حیثیت محض ایک رائے کی ہی ہے نہ کہ دین کے کسی حصہ کی۔کسی کی رائے نہ تو کسی کو دین سے خارج کر سکتی ہے اور نہ داخل۔ہر وہ شخص جو کلمہ لَااِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا قائل ہے اور قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے وہ یقیناً مسلمان ہے۔یہ امر مسلمانوں کے مفاد کے سراسر خلاف ہے کہ کسی ایک فرقہ کو بے دین قرار دیا جائے۔اسلام کی بنیادی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان دوسرے کو کافر قرار دینے سے بچے۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خاں اپنے قول اور اپنے کردار کی رُو سے مسلمان ہیں۔روئے زمین کے تمام حصوں میں اسلام کی مدافعت کرنے میں کامیاب رہے اور اسلام کی مدافعت میں جو موقف بھی اختیار کیا گیا اس کی کامیاب حمایت ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا ہے اس لئے آپ کی عزت عوام کے دلوں میں گھر کر گئی اور مسلمانانِ عالم کے قلوب آپ کے لئے احسان مندی کے جذبات سے لبریز ہو گئے۔آپ ان قابل ترین قائدین سے ہیں جنہیں عوامی اور ملی مسائل کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔اخبار المصری“ کا بیان البشری دسمبر 1953 ء مجلد 13 صفحہ 115-116 ) مصر کی حکومتی وفد پارٹی کے مشہور اخبار المصری نے 26 جون 1952 ء کے پرچہ میں ایک زور دار مقالہ افتتاحیہ سپر قلم کیا جس میں لکھا:۔”اے کافر ، خدا تیرے نام کی عزت بلند کرے“ ہماری مسلمان مملکت پاکستان نے شاہ سوڈان کی حیثیت سے شاہ فاروق کے نئے خطاب کو تسلیم کیا۔پاکستان نے یہ لقب برطانوی تاج کے تحت دولت مشترکہ کا رکن ہونے کے باوجود تسلیم