مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 442 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 442

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 420 لئے یہ سوچنے کا موقع آگیا ہے کہ کیا ہم کو الگ الگ اور باری باری مرنا چاہئے یا اکٹھے ہو کر فتحی کے لئے کافی جد و جہد کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے جب مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ یا تو وہ ایک آخری جد و جہد میں فنا ہو جائیں گے یا کلی طور پر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔مصر، شام اور عراق کا ہوائی بیڑا سو ہوائی جہازوں سے زیادہ نہیں لیکن یہودی اس سے دس گنا بیڑا نہایت آسانی سے جمع کر سکتے ہیں اور شاید روس تو ان کو اپنا بیڑہ نذر کے طور پر پیش بھی کر دے۔میں نے متواتر اور بار بار مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ روس مسلمانوں کا شدید دشمن ہے لیکن مسلمانوں نے سمجھا نہیں۔جو بھی اٹھتا ہے وہ محبت بھری نگاہوں سے روس کی طرف دیکھنے لگ جاتا ہے اور روس کو اپنی امیدوں کی آماجگاہ بنالیتا ہے حالانکہ حق یہی ہے کہ سب سے بڑا دشمن مسلمانوں کا روس ہے۔امریکہ یہودیوں کے ووٹ کی بناء پر یہودیوں کی مدد کر رہا ہے اور روس عرب ملکوں میں اپنا اڈہ جمانے کے لئے یہودیوں کی مدد کر رہا ہے۔رویہ ایک ہے مگر بواعث مختلف ہیں اور یقیناً روس کے عمل کا محرک امریکہ کے عمل کے محرک سے زیادہ خطر ناک ہے لیکن چونکہ عمل دونوں کا ایک ہے اس لئے بہر حال عالم اسلامی کو روس اور امریکہ دونوں کا مقابلہ کرنا ہوگا مگر عقل اور تدبیر سے ، اتحاد اور یک جہتی سے۔میں سمجھتا ہوں مسلمان اب بھی دنیا میں اتنی تعداد میں موجود ہیں کہ اگر وہ مرنے پر آئیں تو انہیں کوئی مار نہیں سکے گا لیکن میری یہ امید میں کہاں تک پوری ہو سکتی ہیں اللہ ہی اس کو بہتر جانتا ہے۔کشمیر کی لڑائی کو آٹھ مہینے ہو چکے ہیں لیکن اب تک مسلمانوں نے اس پہلو کے کانٹے کے متعلق بھی عقل مندی اور ہوشیاری کا ثبوت نہیں دیا۔فلسطین کا خطرہ تو دور کا خطرہ ہے خواہ زیادہ اہم ہے وہ انہیں بیدار کرنے میں کہاں کامیاب ہو گا۔آج ریزولیوشنوں سے کام نہیں ہوسکتا ، آج قربانیوں سے کام ہو گا۔اگر پاکستان کے مسلمان واقعہ میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اپنی حکومتوں کو توجہ دلائیں کہ ہماری جائیدادوں کا کم سے کم ایک فیصدی حصہ اس وقت لے لے۔ایک فیصدی حصہ سے بھی پاکستان کم سے کم ایک ارب روپیہ اس غرض کے لئے جمع کر سکتا ہے اور ایک ارب روپیہ سے اسلام کی موجودہ مشکلات کا بہت کچھ حل ہوسکتا ہے۔پاکستان کی قربانی کو دیکھ کر باقی اسلامی ممالک بھی قربانی کریں گے۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یا درکھیں کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ