مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 441 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 441

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 419 طائف گئے اور ملک کے قانون کے مطابق مکہ کے شہری حقوق سے آپ دستبردار ہو گئے مگر پھر آپ کو لوٹ کر مکہ آنا پڑا تو اس وقت مکہ کا ایک شدید دشمن آپ کی امداد کے لئے آگے آیا اور کی مکہ میں اس نے اعلان کر دیا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہریت کے حقوق دیتا ہوں اپنے پانچوں بیٹوں سمیت آپ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ محمد ہمارا دشمن ہی سہی پر آج عرب کی شرافت کا تقاضا ہے کہ جب وہ ہماری امداد سے شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے تو ہم اس کے مطالبہ کو پورا کر دیں ورنہ ہماری عزت باقی نہیں رہے گی۔اور اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر کوئی دشمن آپ پر حملہ کرنا چاہے تو تم میں سے ہر ایک کو اس سے پہلے مر جانا چاہئے کہ وہ آپ تک پہنچ سکے۔یہ تھا عرب کا شریف دشمن۔اس کے مقابلہ میں بدبخت یہودی جس کو قرآن کریم مسلمان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر پر بلایا اور صلح کے دھو کہ میں چکی کا پاٹ کو ٹھے پر سے پھینک کر آپ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے منصوبہ کی خبر دی اور آپ سلامت وہاں سے نکلی آئے۔یہودی قوم کی ایک عورت نے آپ کی دعوت کی اور زہر ملا ہوا کھانا آپ کو کھلایا آپ کو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر بھی بچالیا مگر یہودی قوم نے اپنا اندرونہ ظاہر کر دیا۔یہی دشمن ایک مقتدر حکومت کی صورت میں مدینہ کے پاس سراٹھانا چاہتا ہے شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے۔جو مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں اس کا دماغ خود کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں۔اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلاف کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس کے مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہو گا۔امریکہ کا روپیہ اور روس کے منصوبے اور ہتھکنڈے دونوں ہی غریب عربوں کے مقابل پر جمع ہیں۔جن طاقتوں کا مقابلہ جرمنی نہیں کر سکا عرب قبائل کیا کر سکتے ہیں۔ہمارے