مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 440 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 440

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 418 پر دلالت کر رہا ہے مگر ساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم الشان ذمہ داریاں بھی ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی وقت میں فلسطین اور کشمیر کے جھگڑے شروع ہیں۔یہ عجیب ہے کہ کشمیر اور فلسطین ایک ہی قوم سے آباد ہیں اور یہ عجیب تر بات ہے کہ اسی قوم کا ایک مسلمان ہو کر آج کشمیر میں مسلمانوں کی ہمدردی کھینچ رہا ہے اور دوسرا حصہ فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی اور موت کی جنگ میں ٹکر لے رہا ہے۔آدھی قوم اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور آدھی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے۔کہے کی جنگ میں بھی کا شر یعنی کشمیری کا نام سننے میں آتا ہے اور فلسطین کی جنگ میں بھی کا شر شہر کا ذکر بار بار آرہا ہے۔اسی کا شر کے نام پر کشمیر کا نام کا شر رکھا گیا تھا۔جواب بگڑ کر کشمیر ہو گیا ہے یا یہ کہ یہ کا شر ہے یعنی سیریا کی طرح۔حال ہی میں کشمیر میں ایک آزادی کا دن منایا گیا ہے جن میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیری دل سے ہندوستان کے ساتھ ہیں۔اس مظاہرے میں روس کے نمائندہ نے خصوصیت کے ساتھ حصہ لیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ کشمیر کے معاملہ میں روس ہندوستان کے ساتھ ہے۔کیوں ہے؟ یہ تو مستقبل ثابت کرے گا۔ہے؟! اسے روس کے نمائندے نے ثابت کر دیا ہے۔کشمیر کا معاملہ پاکستان کے لئے نہایت اہم ہے لیکن فلسطین کا معاملہ سارے مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہے۔کشمیر کی چوٹ بالواسطہ پڑتی ہے۔فلسطین ہمارے آقا و مولیٰ کی آخری آرام گاہ کے قریب ہے جن کی زندگی میں بھی یہودی ہر قسم کے نیک سلوک کے باوجود بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے ان کی ہر قسم کی مخالفتیں کرتے رہے تھے۔اکثر جنگیں یہود کے اکسانے پر ہوئی تھیں۔کسری کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کروانے پر انہوں نے ہی اکسایا تھا۔خدا نے ان کا منہ کالا کیا مگر انہوں نے اپنے خبث باطن کا اظہار کر دیا۔غزوہ احزاب کی لیڈری یہو دہی کے ہاتھ میں تھی۔سارا عرب اس سے پہلے کبھی اکٹھا نہ ہوا تھا مکہ والوں میں ایسی قوت انتظام تھی ہی نہیں یہ مدینہ سے جلاوطن شدہ یہودی قبائل کا کارنامہ تھا کہ انہوں نے سارے عرب کو اکٹھا کر کے مدینہ کے سامنے لا ڈالا۔خدا نے ان کا بھی مونہہ کالا کر دیا مگر یہود نے اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہ رکھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل دشمن مکہ والے تھے مگر مکہ والوں نے کبھی دھوکہ سے آپ کی جان لینے کی کوشش نہیں کی۔آپ جب