مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 435 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 435

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 413 ظفر اللہ خاں صاحب کی اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین سے متعلق وہ پُر شوکت تقریر ہے جو آپ نے پاکستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے فرمائی۔چوہدری صاحب نے فلسطینی مسلمانوں کا مسئلہ کس مؤثر رنگ میں پیش کیا اس کا اندازہ لگانے کے لئے اخبار ” نوائے وقت“ میں شائع شدہ دو خبروں کا مطالعہ کافی ہو گا:۔پہلی خبر " سر ظفر اللہ کی تقریر سے اقوام متحدہ کی کمیٹی میں سکتے کا عالم طاری ہو گیا امریکہ، روس اور برطانیہ کی زبانیں گنگ ہو گئیں ایک سس:۔10 اکتوبر۔رائٹر کا خاص نامہ نگار اطلاع دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی میں ج فلسطینی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بیٹھی تھی کل پاکستانی مندوب سر ظفر اللہ کی تقریر کے بعد ایک پریشان کن تعطل پیدا ہو چکا ہے اور جب تک امریکہ اپنی روش کا اعلان نہ کر دے دیگر مندوبین اپنی زبانیں کھولنے کے لئے تیار نہیں۔امریکن نمائندہ جو اس دوران میں ایک مرتبہ بھی بحث میں شریک نہیں ہوا اس وقت تک بولنے کے لئے آمادہ نہیں جب تک کہ صدر ٹرومین وزیر خارجہ مسٹر جارج مارشل اور خود وفد ایک مشترکہ اور متفقہ حل تلاش نہ کرلیں۔کمیٹی میں کل کی بحث میں کمیٹی کے صدر ڈاکٹر ہر برٹ ایوات (آسٹریلیا) نے بہت پریشانی اور خفت کا اظہار کیا جب بحث مقررہ وقت سے پہلے ہی آخری دموں پر پہنچ گئی اور امریکن مندوب اس طرح خاموش بیٹھا رہا گویا کسی نے زبان سی دی ہو۔اقوام متحدہ کے تمام اجلاس میں یہ واقعہ اپنی نظیر آپ ہے۔پاکستانی مندوب نے ایک لفظ میں دوسرے مندوبین کے وارداتِ قلب کا اظہار کر دیا جب اس نے اُکتا کر یہ مشورہ دیا کہ چونکہ بعض سرکردہ مند و بین تقریر کرنے سے واضح طور پر ہچکچا رہے ہیں اس لئے فلسطین پر عام بحث فوراً بند کر دی جائے۔امریکن وفد دو دن سے اس بحث میں مبتلا ہے کہ اسے کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے لیکن ابھی تک وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا ہے۔وفد کے ایک رکن نے دریافت کرنے پر بتانے سے گریز کیا کہ امریکن صدر مقام میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔مندوبین جس طرح اس مسئلہ پر اب تک اظہار خیال کرتے رہے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کافی وجوہات ہیں کہ مندوبین میں نہ صرف عرب اور یہودی مطالبات اور