مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 430
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 408 سے وسیع تر ہوتی گئی۔15 سال کے کشت و خون کے بعد جب حالات قابو سے باہر نظر آنے لگے تو برطانیہ نے نومبر 1936ء میں لارڈ پیل“ کی صدارت میں ایک شاہی کمیشن نامزد کر دیا۔جس نے حالات کا مطالعہ کر کے جولائی 1937 ء میں اپنی رپورٹ اور اپنی سفارشات پیش کر دیں۔پیل کمیشن نے اعتراف کیا کہ عرب اور یہودی دونوں سے وعدہ خلافی اور ناانصافی کی گئی ہے۔جس کا حل اس نے یہ پیش کیا کہ ملک کے حصے بخرے کر دیے جائیں۔ایک علاقہ جو سب سے زرخیز اور تجارتی مرکز تھا اور جس میں وہاں کی صرف ایک ہی کارآمد بندرگاہ حیفا بھی شامل تھی یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے۔اور فلسطین کا بیشتر حصہ جو عموما ریتلا ،صحرا اور بنجر ہے عربوں کو دے دیا جائے۔نیز سفارش کی کہ باقی مقامات مقدسہ یروشلم اور درمیانی علاقہ پر انگریزی حکومت کی عملداری رہے۔عرب اور یہود دونوں نے اس تجویز کی سخت مذمت کی اور فلسطین میں یکا یک فریقین کی طرف سے ملک گیر اور منظم فسادات اٹھ کھڑے ہوئے۔عربوں کا نشانہ پہلے تو یہودی ہوا کرتے تھے۔مگر پھر انگریزی فوجوں پر یورش شروع کر دی گئی۔متعدد برطانوی فوجی بیڑے حیفا اور جانا پہنچ گئے۔اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔حریت پسند عرب لیڈر گرفتار کئے گئے۔مجلسیں تو ڑ دی گئیں اور عرب دیہات نہ صرف تعزیری چوکیوں سے زیر بار کر دیئے گئے بلکہ ہوائی جہازوں سے ان پر گولہ باری کی گئی۔ان حالات نے صورتحال بدل دی، ملک کے حصے بخرے کرنے کی سکیمیں وقتی طور ہے معرض التواء میں پڑ گئیں۔اور پیل کمیشن کی رپورٹ پر غور کرنے کیلئے ایک اور کمیشن ووڈ ہڈ" کمیشن مقرر ہوا۔مگر عرب نہ مطمئن ہو سکتے تھے نہ ہوئے۔666 اب برطانوی حکومت نے مفاہمت کے لئے ایک نئی تجویز سوچی اور وہ یہ کہ لندن میں عربوں اور یہودیوں کی ایک مشترکہ کانفرنس کا فیصلہ کیا گیا۔یہ کانفرنس فروری 1939 ء میں بمقام لندن منقعد ہوئی جس میں سعودی عرب، مصر اور عراق کے مندوبین نے شرکت کی۔مگر یہ ملخص از تاریخ احمدیت جلدے صفحہ 553 تا 555) بھی ناکام ہوگئی۔عرب زعماء مسجد فضل لندن میں فروری 1939ء کی یہی کانفرنس تھی جس میں شریک ہونے والے عرب نمائندگان جن میں مکہ مکرمہ کے وائسرائے اور فلسطین ، عراق اور یمن کے نمائندوں کے اعزاز میں مکرم مولانا