مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 429 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 429

407 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل برطانیہ دونوں سے جوڑ توڑ شروع کر دئیے جنگ عظیم کے دوران حالات نے پلٹا کھایا۔ترکی جنگ میں اتحادیوں کے خلاف جرمنی کا ساتھ دے رہے تھے ادھر برطانیہ کو عربوں کی (جو اسوقت ترکی حکومت سے مطمئن نہ تھے ) ضرورت محسوس ہوئی۔انگریزوں نے حسین شریف مکہ کو پیغام بھیجا کہ اگر فلسطین کے عربوں نے جنگ میں انکا ساتھ نہ دیا تو ترکوں کے عربی مقبوضات آزاد کر دیئے جائیں گے۔ان مقبوضات میں فلسطین بھی شامل تھا۔عرب برطانیہ کے داؤ میں آگئے اور انہوں نے اسے منظور کر لیا۔اور جنگ میں ترکوں کے خلاف برسر پیکار ہو گئے۔کرنل لارنس“ کی زیر ہدایت اور عربوں کی مدد سے جنرل این بی“ نے 1917ء میں ترکوں کو شکست دے کر یروشلم پر قبضہ کر لیا۔صہیونی تحریک کے لیڈر بھی خاموش نہیں بیٹھے تھے۔فلسطین کو اپنا قومی گھر بنانے کی پرانی خواہش از سر نو تازہ ہو گئی۔ادھر جنگ کے مصارف کی وجہ سے انگریزوں کو یہودی سرمایہ کی سخت ضرورت تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اسی سال برطانوی وزیر امور خارجہ لارڈ بلفور" اور یہودی لیڈر لارڈ روسچائلڈ کے مابین ایک خفیہ معاہدہ ہوا جس کے ذریعہ طے پایا کہ یہودی جنگ میں برطانیہ کی مدد کریں اسکے عوض برطانیہ اختتام جنگ پر فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنادے گا۔یہ معاہدہ 1920ء یعنی اختتام جنگ کے ایک سال بعد تک خفیہ رکھا گیا۔جنگ کے بعد تھوڑے عرصہ تک سکون رہا۔1920ء میں فلسطین کی باگ ڈور مجلس اقوام کی زیر نگرانی برطانیہ کے سپرد ہوئی۔عربوں کو کامل یقین تھا کہ عنقریب فلسطین ایک آزاد ملک انکے سپر د کر دیا جائے گا۔مگر 1920ء میں پہلی بار محسوس ہوا کہ برطانیہ کسی صورت میں انکو فلسطین کا اقتدار سونپنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔اس عرصہ میں یہودی لوگ کافی تعداد میں فلسطین پہنچ چکے تھے۔اور اس وقت سے ہی علاقہ میں گڑ بڑ شروع ہو گئی تھی۔یہودی اعلانیہ طور پر طین کو اپنا ملک بنانے پر مصر تھے۔عرب جو پہلے ہی مضطرب بیٹھے تھے مزید بھڑک اٹھے۔یہودیوں کی بڑھتی ہوئی درآمد نے انکی آنکھیں کھول دیں۔اور ملک میں فسادات کا دور دورہ شروع ہو گیا۔1924ء میں حالات انتہائی نازک حالت تک پہنچ گئے۔بغاوت فرو کرنے کے لئے انگریز فوجیں منگائی گئیں اور وقتی طور پر ہنگاموں پر قابو پالیا گیا۔مگر 1933ء اور 1936ء میں دوباره شدید فسادات اٹھ کھڑے ہوئے۔بہت کچھ مالی و جانی نقصان ہوا۔برطانوی مدبرین کا خیال تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد عرب اور یہودی شیر و شکر ہو جائیں گے لیکن اختلافات کی خلیج وسیع