مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 428 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 428

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 406 مسئلہ فلسطین اور جماعت احمدیہ احمدیت کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالم اسلام کو دینی روحانی اور حتی کہ سیاسی اعتبار سے مشکلات پیش آئیں تو انکے دفاع کے لئے اور انکی راہنمائی کے لئے جو پہلی آواز اٹھی وہ یا تو تو امام جماعت احمدیہ کی آواز تھی یا آپ کی ہدایت کے مطابق افراد جماعت کی آواز تھی۔اور جب کبھی خطرات لاحق ہوئے تو پہلی آواز جس دردمند دل سے نکلی وہ جماعت احمدیہ کی آواز تھی۔جہاں احمدیت نے عرب اور اسلامی ملکوں کی آزادی کے حصول میں گرانقدر اور بے لوث خدمات سرانجام دیں وہاں مسئلہ فلسطین اور اسکے حل میں بھی سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔بلکہ اسے سیاسی ہی نہیں ایک دینی مسئلہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے ایسی سر توڑ کوششیں کیں جیسی کہ جماعت احمد یہ اسلام کے دفاع میں کوششیں کرتی رہی ہے اور جو جماعت احمدیہ کا خاصا رہی ہیں۔مسئلہ فلسطین میں جماعتی کوششوں کے تذکرہ سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کرام کی آگاہی کے لئے اس مسئلہ کا پس منظر بیان کر دیا جائے۔مسئلہ فلسطین کا پس منظر فلسطین کو یہودیت کا مرکز بنانے کی تحریک انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی جب عالمی صہیونی انجمن کی بنیاد ڈالی گئی۔اور بیل" کے مقام پر طے پایا کہ فلسطین میں یہودیوں کا ایک وطن بنایا جائے۔صہیونی تحریک کے لیڈروں نے پہلے تو سلطان ترکی کو اس بات پر آمادہ کرنیکی کوشش کی کہ یہودی وطن کے قیام کی اجازت دی جائے۔مگر ترکی حکومت نے انکار کر دیا۔1903ء میں حکومت برطانیہ نے تجویز پیش کی کہ یہودی کینیا کو اپنا وطن بنالیں۔لیکن یہودی رضا مند نہ ہوئے۔1914 ء میں جب پہلی عالمی جنگ چھڑی تو یہودیوں نے جرمنی اور