مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 415 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 415

393 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں بکثرت شائع کیا تھا ) کا عربی ٹریکٹ پیش کیا جسے شاہ نے بخوشی قبول فرمایا اور پورے ٹریکٹ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے جب اس میں جنرل سمطس کا نام دیکھا تو فرمایا دوشمن فلسطین، پھر فرمایا کہ میں اسے غور سے پڑھوں گا اور انشاء اللہ فائدہ اٹھاؤں گا۔“ آخر میں بادشاہ نے مملکت اردن اور پاکستان کے اسلامی روابط و تعلقات اور اتحاد و اتفاق پر گفتگو فرمائی۔شاہی محل قصر رغدان میں ملک معظم سے یہ ملاقات 20 منٹ تک جاری رہی۔(ملخص از الفضل یکم ستمبر 1948 ، صفحہ 2) اس ملاقات کی خبر عمان کے اخبار الاردن نے اپنی 29 مئی 1948ء کی اشاعت میں دی۔مولوی صاحب موصوف کو اس کے بعد بھی شاہ معظم سے اسی سال دوبارہ ملاقات کا موقعہ ملا۔یہ ملاقاتیں حضرت مصلح موعودؓ کے مسئلہ فلسطین سے متعلق مطبوعہ عربی ٹریکٹ پیش کرنے کی غرض سے تھیں۔) اردن کے سب سے پہلے احمدی۔سلطنت اردن کے قدیم اور تاریخی شہر الکرک کو یہ شرف حاصل ہوا کہ اردن میں سب سے پہلے وہاں احمدیت کا بیج بویا گیا اور مشہور قبیلہ المعایطہ کے سردار کے بڑے لڑکے السید عبد اللہ الحاج محمد المعایطہ اور ان کے بعض افراد خاندان داخل سلسلہ احمد یہ ہوئے۔اردن مشن کی اسلامی خدمات زائرین کی نظر میں اردن مشن اگر چه صرف سوا سال تک قائم رہ سکا تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس نہایت قلیل عرصہ میں اس کو خاصی اہمیت حاصل ہو گئی اور اس کی اسلامی خدمات ملک کے اونچے اور علمی طبقے میں بڑی قدر اور احترام کی نظر سے دیکھی جانے لگیں۔اس حقیقت کا اندازہ ان تاثرات سے بخوبی ہو سکتا ہے جو اردن مشن کی اسلامی خدمات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے اور مشن میں آنے والے زائرین نے خود قلمبند کئے اور جو ریکارڈ میں اب تک محفوظ ہیں۔جن شخصیات کے تاثرات ہمیں اس ریکارڈ میں ملتے ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:۔السید محمد نزال العرموطي رئيس ديوان قاضي القضاة و رئيس ندوة عربية عمان )