مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 405
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حضرت مصلح موعود کی ہدایات 383 سید نا حضرت امیر المومنین المصلح موعودؓ نے مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کو قادیان۔تائی کوقادیان سے رخصت کرتے وقت حسب ذیل ہدایات ان کی نوٹ بک میں تحریر فرمائی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان باتوں سے پر ہیز کرو جن سے تعلق نہ ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے لغو باتوں سے پر ہیز کروہ تبلیغی ہدایات بہت دی جا چکی ہیں ان کو یاد کریں اور ان پر عمل کریں۔کسی نے کہا ہے ایاز قدر خود بشناس اس مقولہ کو یا درکھو، ہم غریب لوگ ہیں۔ہم نے اپنے ذرائع سے کام لے کر دنیا فتح کرنی ہے یہ سبق بھولا تو تبلیغ یونہی بر کار ہو جائیگی۔باقی فتح دُعاؤں اور نماز اور روزہ سے آئے گی۔تبلیغ سے زیادہ عبادت اور دُعا اور روزہ پر زور دو۔خاکسار مرزا محمود احمد "(23/10/1946) 66 پھر 3 نبوت 1326 ہش بمطابق 3 نومبر 1947ء کو مولوی صاحب کا ایک خط ملاحظہ کر کے ارشاد فرمایا:۔اب وقت کام کا ہے۔تبلیغ پر زور دے کر ایک موت وارد کریں تا احمدیت دوبارہ زندہ ہو اور مالی اور روحانی قربانی کی جماعت کو نصیحت کریں۔اب ہر ملک کو ایسا منظم ہونا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر وہی تبلیغ اور سلسلہ کا بوجھ اٹھا سکے۔پہلے بہت سستی ہو چکی۔اب ایک معجزانہ تغیر ہمارے مبلغوں اور جماعت میں پیدا ہونا چاہیے۔" اُردن مشن کی ابتداء نہایت پریشان کن ماحول اور حوصلہ شکن حالات میں ہوئی۔قضیہ فلسطین کے باعث ہر طرف ابتری پھیلی ہوئی تھی اور دوسرے کثیر التعداد مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی طرح حیفا کے متعد د احمدی گھرانوں کو بھی ہجرت کر کے شام و لبنان میں پناہ گزین کی ہونا پڑا تھا۔خود مولوی رشید احمد صاحب چغتائی جو حیفا ہی سے اردن میں تشریف لائے تھے محض اجنبی اور غریب الدیار تھے۔مولوی صاحب موصوف نے اپنی تبلیغی، علمی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز ایک ہوٹل سے کیا جہاں آپ صرف چند ہفتے مقیم رہے مگر پھر جلد ہی اخراجات میں تنگی کی وجہ سے اپنے ایک عرب دوست السيد عبد الكريم المعايطه ابن الحاج محمد ھلال المعایطہ کے ساتھ ایک کمرہ میں رہائش پذیر ہو گئے۔چند ماہ بعد جب فلسطین کے ایک مخلص عرب احمدی پناہ گزین السید طه