مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 404 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 404

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 382 مولوی رشید احمد چغتائی صاحب کی بلا د عر بیہ میں آمد ہم نے مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب کی خدمات کے تذکرہ میں عرض کیا تھا کہ ان کے دور میں بلا دعربیہ میں دو مبلغین کرام تشریف لائے جن میں سے ایک مولوی رشید احمد چغتائی صاحب تھے۔جنہوں نے پہلے اردن میں اور پھر لبنان میں تبلیغ احمدیت کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ذیل میں اس کا کسی قدر تذکرہ کیا جائے گا۔اردن مشن کی بنیاد خلیج فارس سے مراکش تک پھیلی ہوئی عرب دنیا میں شرق اردن (Jordon) ایک نہایت مشہو ر مملکت ہے۔اردن کا علاقہ صدیوں تک دمشق ، حمص اور فلسطین کی طرح شام کی اسلامی عملداری میں شامل رہا۔مگر پہلی جنگ عظیم کے بعد اسے برطانیہ کے زیر حمایت ایک مستقل ریاست تسلیم کر لیا گیا۔یہ ریاست دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر برطانوی انتداب سے آزاد اور خود مختار ہو گئی اور عبداللہ بن الشریف حسین الہاشمی اس کے پہلے آئینی بادشاہ قرار پائے۔شاہ عبد اللہ والی اردن کی بادشاہت کے تیسرے سال مولوی رشید احمد صاحب چغتائی واقف زندگی 3 ماه امان/ 1327 ہش بمطابق 3 مارچ 1948 ء کو حیفا سے شرق الاردن کے دار السلطنت عمان پہنچے اور ایک نئے احمدی مشن کی بنیاد ڈالی۔یہ مشن 7 ماہ وفا 1328 ہمش بمطابق 7 جولائی 1949 ء تک جاری رہا۔اس کے بعد آپ شام و لبنان میں تشریف لے گئے اور دین برحق کی منادی کرنے لگے۔