مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 380
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 358 شائع کرنے میں اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کتابیں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔اسلام کی نادر کتابیں مصر میں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کے لئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا۔اپنی نسل کو فراموش کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی۔اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔مصر میں عربی زبان ، عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں۔اور محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مذہب رائج ہے۔پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کے لئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو۔اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔پھر مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سرزمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔نہر سویز کے ادھر آتے ہی ( آج کل کے سفر کے سامانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ) چند روز کی مسافت کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک وجود لیٹا ہے۔جس کی گلیوں میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک پڑا کرتے تھے۔جس کے مقبروں میں آپ کے والا وشیدا خدا تعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سو رہے ہیں اس دن کی انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائینگے۔دو اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیارت اور حج کے لئے جاتے ہیں۔جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے۔یہ مقدس مقام صرف چند سومیل کے فاصلہ پر ہے اور آج کل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔وہاں جو حکومت ہے اس کے پاس نہ ٹینک ہیں نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان۔کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دیوار میں بھی نہیں ہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے۔“۔( الفضل 3 روفا ہش 1321 بمطابق 3 جولائی 1942 ء صفحہ 2-3 ) حضور نے خطبہ کے دوران مقامات مقدسہ کی حفاظت کے خدائی وعدوں کی طرف اشارہ کی