مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 379
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 357 چار پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔بے شک انگریزوں نے عراق کو ایک حد تک آزادی مگر عربوں نے بھی سابق جنگ میں کم قربانیاں نہ کی تھیں۔اگر اس غلطی کے ازالہ کا عہد کر لیا جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ سب اسلامی دنیا متحد ہو کر اپنے علاقوں کو جنگ سے آزاد رکھنے کی کوشش کرے گی۔۔۔۔اس جنگ کے بعد ہالینڈ اور زیکوسلواکیہ کی آزادی ہی کا سوال حل نہیں ہونا چاہئے بلکہ متحدہ عرب کی آزادی کا سوال بھی حل ہو جانا چاہئے شام فلسطین اور عراق کو ایک متحد اور آزاد حکومت کے طور پر ترقی کرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔انصاف اس کا (ماخوذ از الفضل 29 مئی 1941 صفحہ 1-2) تقاضا کرتا ہے۔“ مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے دعا کی تحریک دوسری جنگ عظیم کے دوران وسط 1321 ہش مطابق 1942ء میں محوری طاقتوں کا دباؤ مشرق وسطی میں زیادہ بڑھ گیا اور جرمن فوجیں جنرل رومیل کی سرکردگی میں جون میں طبروق کی قلعہ بندیوں پر حملہ کر کے برطانوی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے بعد ان کی پیش قدمی پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی۔اور یکم جولائی تک مصر کی حدود کے اندر گھس کر العالمین کے مقام تک پہنچ گئیں جو اسکندریہ سے تھوڑی ڈور مغرب کی جانب برطانوی مدافعت کی آخری چوکی تھی۔جس سے مصر براہ راست جنگ کی لپیٹ میں آگیا اور مشرق وسطی کے دوسرے اسلامی ممالک خصوصاً حجاز کی ارض مقدس پر محوری طاقتوں کے حملہ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔ان پر خطر حالات میں حضرت خلیفہ المسح الثانی نے 26 جون 1942 کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کی نازک صورت حال کا درد ناک نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ:۔اب جنگ ایسے خطر ناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ اسلام کی جو تو جیہ وتفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں مگر اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہر طور پر وہ ہمارے خدا ، ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کیلئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے غیرت رکھتی ہے۔اسلامی لٹریچر