مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 372
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 350 امام وقت ہیں تو ان کی صداقت کے صدقے میرے اس بچے کو اب تو بغیر دوا کے ہی اپنے فضل سے شفاء عطا فرما دے۔رات کو وہ اپنے بچے کے پاس بیٹھی بڑے عجز وانکسار سے یہ دعا کرتی رہیں اور صبح کیا دیکھتی ہیں کہ بچے کی بیماری میں بہت حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔چنانچہ وہ اسی حالت میں بچہ کو واپس ”مگبور کا اپنے گھر لے آئیں اور سارا واقعہ اپنے خاوند سید امین صاحب کو کہہ سنایا۔الحمد للہ کہ اس کے بعد ایک دو روز میں بچہ کو اللہ تعالیٰ نے کامل صحت عطا فرما دی۔اسی قسم کے قبولیت دعا کے ایک دو اور واقعات سنا کر انہوں نے بتایا کہ اس طرح ان کی اہلیہ کو بھی شرح صدر ہو گیا اور انہوں نے بھی بیعت کر لی۔جذبہ ، قربانی اور آخری خواہش اپریل 1960 ء میں وہ سخت بیمار ہو گئے اور کچھ عرصہ فری ٹاؤن اور بو کے ہسپتالوں میں زیر علاج رہے جہاں پر بار بار اس امر کا ذکر کیا کہ میں اپنی جائیداد کا تیسرا حصہ خدمت اسلام کے لئے وقف کرنا چاہتا ہوں اور صحت ہونے پر انشاء اللہ وصیت کر دوں گا۔جب بھی ہم تیمارداری کے لئے جاتے وہ باوجود شدید نقاہت کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کی صداقت کا ذکر شروع کر دیتے۔۔ایک دفعہ کہنے لگے کہ میری یہ شدید خواہش ہے کہ سید نامحمود کی زیارت نصیب ہو مگر صحت اجازت نہیں دیتی، پھر روتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر ہو سکے تو اب میری یہ آرزو پوری کردی جائے کہ میری وفات کے بعد میری میت کو میرے خرچ پر قادیان لے جا کر سید نا حضرت احمد علیہ السلام کے قدموں میں دفن کیا جائے۔لیکن افسوس ہے کہ ان کے غیر احمدی رشتہ داروں نے ان کی وفات کے بعد انہیں وہیں دفن کر دیا جہاں وہ اور ان کا خاندان کا روبار کرتا تھا۔ان کی وفات قصبہ بیلے میں 12 اور 13 ستمبر 1960 کی درمیانی شب کو ہوئی۔مکرم مولوی شیخ نصیر الدین صاحب سابق امیر جماعتہائے احمد یہ سیرالیون نے جنازہ پڑھایا جس میں احمدی احباب کے علاوہ شامی، لبنانی اور افریقن دوست بھی کثرت سے شامل ہوئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور جنت میں اعلی علیین میں مقام عطا فرمائے اور اولا دکو اسلام اور احمد بیت پر قائم رکھے۔، (ماخوذ از روح پرور یا دیں صفحہ 519 تا 523)