مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 371
349 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول گاؤں میں مختصر علالت کے بعد مارچ 1972 میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالی انکے درجات بلند کرے اور انہیں اپنی رحمتوں بھری جنت نصیب کرے۔آمین۔مکرم سید امین خلیل سلیکی مرحوم سید امین خلیل سکیکی مرحوم بھی سیرالیون احمد یہ جماعت کے ایک نہایت مخلص فدائی اور جان نثار احمدی تھے۔یوں تو مرحوم کو سلسلہ عالیہ احمدیہ سے دیرینہ محبت وعقیدت تھی اور وہ وقتاً فوقتاً احمد یہ مشن کی اعانت فرماتے رہتے تھے مگر سلسلہ میں باقاعدہ طور پر دسمبر 1946ء میں داخل ہوئے۔اس کے بعد قربانی ایثار اور اخلاص کا وہ اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کیا جس کی مثال بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ذکر پر فرط محبت سے بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔آپ فی الواقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام : یصلون عليك أبدال الشام کے مصداق تھے۔سیرالیون احمد یہ مشن کے ابتدائی مشکل اوقات میں آپ اکثر مالی امداد فرماتے رہے، مبلغین سے محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آنا ان کا خاصہ تھا۔جب بھی ان کے ہاں جانا ہوا انہیں یہی کہتے سنا کہ میرا گھر مجاہدین احمدیت کے لئے وقف ہے اور انکی خدمت میرے لئے عین سعادت ہے۔انہیں یہ بھی شدید خواہش تھی کہ ان کی اولاد بھی خادم سلسلہ عالیہ احمد یہ ہواور ان کے دلوں میں اسلام اور احمدیت کی محبت گھر کر جائے۔چنانچہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے عزیز علی امین کو چھوٹی عمر میں ہی تعلیم کی غرض سے ربوہ بھیجوا دیا۔بچہ کی معجزانہ شفایابی اور اہلیہ کی بیعت ایک مرتبہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ شروع میں جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو ان کی اہلیہ احمدی ہونے پر راضی نہ تھیں۔ان کے بھائی سخت مخالف تھے۔تاہم وہ انہیں متواتر تبلیغ کرتے اور سمجھاتے رہے۔اس دوران ان کا بیٹا امین سخت بیمار ہو گیا۔اسے علاج کے لئے مگبور کا“ سے تقریبا 51 میل دور ایک شہر مکینی“ لے جایا گیا مگر وہاں اس کی حالت زیادہ خراب ہوگئی اور ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے کر ہسپتال سے رخصت کر دیا۔آخر بوقت شب ان کی اہلیہ نے متواتر دعا کی کہ اے شافی مطلق خدا ! اگر سید نا احمد واقعی سچے مہدی اور