مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 367 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 367

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 345 عظیم الشان تاریخی اہمیت کے حامل واقعات مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب کے تبلیغی جہاد کے عرصہ میں ہی بعض ایسے واقعات بھی ظہور پذیر ہوئے جن کا جماعتی سطح پر خصوصا اور اسلامی اور عالمی سطح پر رس اثر محسوس ہوا اور ہو رہا ہے۔ان میں سے بعض کا تذکرہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔مدیہ رابطہ اسلامیہ کی قادیان تشریف آوری وسط اپریل 1939 ء میں عالم اسلام کے دو مشہور عالم قادیان کی شہرت سن کر مرکز احمدیت میں تشریف لائے۔۱۔حاجی موسی جار اللہ ۲۔الاستاذ عبد العزیز ادیب مدیر ماہنامہ رابطہ اسلامیہ دمشق۔ان میں علامہ موسیٰ جار اللہ جو کہ روسی ترک عالم تھے اور عربی زبان پر عبور رکھتے تھے جماعت کے عقائد و تعلیمات سے بہت متاثر ہو کر گئے اور تین سال بعد اپنی کتاب ”اوائل السور میں فیضان نبوت اور معراج کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے نظریہ کی تائید کی۔نظام نو اور عباس محمود عقاد کی مدح سرائی تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 619) چالیس کی دہائی میں جب دنیا ابھی دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما تھی۔ایسے حالات میں 1942 ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ”نظام نو کے عنوان سے ایک معرکۃ الآراء خطاب فرمایا جس میں مختلف دینی اور سیاسی نظاموں پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے اسلامی نظام کا غربت اور فقر اور مایوسی کی کیفیات