مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 364
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 344 صورت حال بہت نازک ہو گئی تھی۔اس لئے چوہدری محمد شریف صاحب نے انہیں 3 مارچ کی 1948ء کو اردن میں نیا مشن قائم کرنے کے لئے بھجوا دیا۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 530) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ انچارج کے اس بر وقت اقدام کی تعریف اور السید منیر اکھنی اور شیخ نور احمد صاحب منیر کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔مشرقی پنجاب پر جیسے تباہی آئی ویسے ہی یہودیوں کے حملہ کی وجہ سے فلسطین پر آئی ہے اور خطرناک جگہ وہی تھی جہاں ہماری جماعت تھی۔حیفا کی جماعت کا کچھ حصہ فسادات سے پہلے ہی دمشق چلا گیا تھا۔باقیوں کے متعلق کوئی اطلاع نہیں آئی۔چوہدری محمد شریف صاحب نے جو وہاں کے مشنری انچارج تھے وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے کام کیا اور اپنا ایک مبلغ شرق اردن بھجوادیا اور اسے ہدایت کی کہ پتہ نہیں ہمارا کیا حال ہو تم وہاں جا کر نیا مرکز بنانے کی کوشش کرو۔گویا انہوں نے وہی تدبیر اختیار کی جو ہم نے قادیان سے نکلنے کے وقت اختیار کی تھی اور اپنا ایک ساتھی شرق اردن میں بھجوا دیا شام میں کسی وقت ہمارے مبلغ گئے تھے لیکن کافی عرصہ سے یہ میدان خالی پڑا تھا۔تحریک جدید کے ماتحت شیخ نور احمد صاحب کو وہاں بھیجا گیا ان کے ذریعہ جماعت میں ایک خاص بیداری پیدا ہو رہی ہے۔وہاں کے دوست منیر احصنی صاحب مقامی احمدی ہیں جو کہ نہایت ہی مخلص اور اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔انہوں نے یورپ میں فرانس وغیرہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔وہ آسودہ حال اور تاجر ہیں اور ان کے ایک بھائی کی قاہرہ (مصر) میں ایک بڑی دکان ہے۔ان کے خاندان کے سب افراد احمدی ہو گئے ہیں اور بہت مخلص اور قربانی کرنے والے لوگ ہیں۔ہمارے مبلغ کے وہاں جانے کی وجہ سے اور برادرم منیر اکھنی صاحب کے قادیان میں رہ جانے کی وجہ سے وہاں کی جماعت میں ایک خاص احساس اور بیداری پیدا ہو چکی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر پیدا ہوا ہے۔الفضل 5 / دسمبر 1948 ء صفحہ 3 ، تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 530-531 مکرم رشید احمد چغتائی صاحب نے اردن میں 17 جولائی 1949 ء تک تبلیغی فرائض ادا کئے۔ازاں بعد آپ دمشق میں آگئے۔اور کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد لبنان مشن کی بنیاد رکھی اور 22 دسمبر 1951ء کو مرکز (ربوہ) میں پہنچے۔ملخص از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحه 530 )