مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 350
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 330 کے بعض لوگ انقلابی تحریک کا حصہ بھی تھے لہذا ہم نے کسی کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔چوہدری محمد شریف صاحب دشمن کی سازش اور ایک احمدی کا اخلاص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کے متعلق نوار کی طرف سے فتوی جاری ہو گیا کہ اس کو کسی رات ڈائنامیٹ سے اڑا دیا جائے۔اور ثوار کی طرف اس احمدی بھائی سے کہا گیا کہ یا تو تم اپنے مبلغ کو اپنے مکان سے نکال دو۔یا تم خود نکل جاؤ کیونکہ تمہارے مکان کے متعلق یہ حکم ہوا ہے۔اس نے جواب دیا کہ مجھے اپنی اور اپنے مکان کی کوئی پرواہ نہیں لیکن میں اپنے سلسلہ کے مبلغ کو نہیں نکال سکتا۔اس سے اس بھائی کا اخلاص اور سلسلہ کی محبت ظاہر ہے۔فجزاه الله الفضل 28 /اکتوبر 1939 ، صفحہ 6 احسن الجزاء۔چوہدری صاحب اس واقعہ کے بعد بیان فرماتے ہیں کہ:۔جب دہشت گردوں کا اس سے بھی کام نہ چلا۔تو انہوں نے ان کی ساس سے جو غیر احمدی ہے کہا تم اپنی لڑکی کو گھر لے آؤ کیونکہ اس کا خاوند اپنی جماعت کے مبلغ کو وہاں سے نہیں نکالتا۔اور اب فتویٰ جاری ہوا ہے کہ دونوں کو مع مکان اڑا دیا جائے۔اس پر اگر چہ وہ تھی تو غیر احمدی مگر اس نے جواب دیا کہ جب تم نے اس کے خاوند اور ان کے گھر کواڑا دیا ہے۔تو میری لڑکی نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔پھر اس کے بعد جلد ہی اس فتنہ کا بانی بھی قتل ہو گیا۔“ الفضل 28 /اکتوبر 1939 ءصفحہ 6) تائید و نصرت خداوندی کے واقعات 66 تائید خداوندی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے مولا نا محمد شریف صاحب فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ کمیونسٹوں نے اسلام کے خلاف ایک مضمون لکھا۔میں نے اس کا جواب سپرد قلم کیا اور بصورت ٹریکٹ اسے شائع کر کے بڑے بڑے شہروں میں تقسیم کروا دیا۔ناصرہ جہاں حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ) کی شرعی عدالت کے قاضی طاہر طبری نے وہ کی مضمون پڑھا اور بہت خوش ہوئے۔انہوں نے مجھے دعوت دی کہ آپ ناصرہ میں تشریف لائیں اور ہمیں ممنون فرمائیں۔چنانچہ میں چند احمدی احباب کے ہمراہ ناصرہ گیا۔قاضی صاحب نے وہاں چیدہ چیدہ بیس پچپیں علماء کو بلایا ہوا تھا۔شاندار دعوت ہوئی اور تبلیغ کا موقع