مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 345
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہوئے فالحمد لله على ذلك 325 اس عرصہ میں خدا کے فضل و رحم سے 24 احباب بیعت کر کے داخل سلسلہ عالیہ احمدیہ کی۔66 الفضل 12 جون 1946 ء صفحہ 3) ایک اور تبلیغی رپورٹ میں بیعت کندگان کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔عرصہ زیر رپورٹ میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بارہ اشخاص بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو استقامت عطا فرمائے اور احمدیت کی الفضل 28 /اکتوبر 1949ء) برکات سے متمتع فرمائے۔“ غریب الوطنی میں رفیقہ حیات کی وفات جب مولانا محمد شریف صاحب تبلیغ اسلام کی خاطر بلاد عربیہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی اہلیہ محترمہ بھی آپ کے ساتھ تھیں۔آپ کی اہلیہ جو کہ عظیم خاتون تھیں فلسطین میں انتقال کر گئیں جس سے آپ کو بہت بڑا صدمہ پہنچا۔لیکن آپ نے اس صدمہ کو تبلیغ کی راہ میں آڑ نہ بننے دیا۔مولانا محمد شریف اپنی اہلیہ مرحومہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے۔وہ نہایت نیک اور صالح خاتون تھیں۔ہمیشہ چوہدری صاحب کے دینی کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتی تھیں۔اور کبھی بھی ان کے لئے تکلیف اور دکھ کا باعث نہیں بنیں۔مولانا صاحب جب بھی اپنی اہلیہ کا ذکر کرتے تو ساتھ یہ کہتے کہ ”میری پیاری اہلیہ گویا آپ ایک عظیم خاتون تھیں۔چنانچہ آپ ایک تبلیغی رپورٹ میں ان کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔بالآخر یہ بھی عرض کر دیتا ہوں کہ حکمت ایزدی کے ماتحت خاکسار کی اہلیہ جو حضرت اقدس کے ارشاد پر بلاد عربیہ میں خاکسار کے ہمراہ آئی تھی اور بہت اچھا نمونہ اور سابقہ بالخیرات تھی۔ان ممالک میں تقریباً پونے پانچ سال خدمت سلسلہ کر کے اچانک دو تین روز بیمار رہ کر اور اپنے پیچھے تین خورد سال بچے چھوڑ کر بتاریخ 22 صفر 1363ھ موافق 27 تبلیغ 1332 ھش اپنے مولا حقیقی سے جاملی۔إنا لله وإنا إليه راجعون واللهم اغفرلها وارحمها وعافها واعف عنها الفضل 26 اکتوبر 1943 ، صفحہ 4) وأدخلها في جنة النعيم اخبار الفضل نے اہلیہ مولانا محمد شریف صاحب کا ذکر اس انداز میں کیا:۔