مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 311 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 311

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کی ایک مکار قوم کے ہاتھوں تحریف ہو چکی ہے۔293 جو ہمارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی تجدید کریں جس کو ہم چھوڑ بیٹھے ہیں اور اس کی جگہ ایسی روایات کو اپنالیا ہے جن کا نتیجہ صرف اور صرف رنج والم ہے۔جو ہمارے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی تجدید کریں جسے ہم نے بھلا دیا ہے اور قوت وحزم واقدام جیسے خلق کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔جو ہمارے لئے نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے اصول کی تجدید کریں کیونکہ ہمارے آپس میں گناہ اور زیادتی کے معاملہ میں تعاون کی وجہ سے دشمن نے ہمیں گزند پہنچانے کے معاملہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر لیا ہے جس کے سبب سے ہم مغلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔وہ ہمارے لئے اس خیر کی تجدید کریں جسے ہم نے اپنے دین کی تعالیم کو خیر باد کہنے کے نتیجہ میں کھو دیا ہے۔جو ہمارے لئے آزادی، عزت ، وقار ، استغنا ، اور امن و آشتی کے مفاہیم کی تجدید کریں۔جو سلف صالحین کی عظمت رفتہ اور ہمارے آباؤ اجداد کے غلبہ کی تجدید کا کام کریں۔یہ ہے وہ تجدید جس کی ہمیں ضرورت ہے۔اگر اس جیسی تجدید کوئی لے کر آئے تو ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے اور اسے کہیں گے کہ تم نے اعلیٰ درجہ کی نیکی اور عظیم کام کیا ہے۔اے اللہ! اے حلیم و کریم خدا تو اپنے فضل سے ہمیں صحیح اسلامی تجدید سے متمتع فرما۔مجلہ الا سلام شمارہ نمبر 42 بحوالہ البشری جنوری 1935 ء صفحہ 29 تا 33) مضمون نگار کے بار بار گروہ مجددین کے الفاظ سے ایک منصف مسلمان کا ذہن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی طرف مبذول ہو جاتا ہے جس میں آپ نے فرمايا: لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء یعنی اگر ایمان ثریا ستارہ پر بھی پہنچ چکا ہوگا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اسے وہاں سے اس زمین میں دوبارہ لے آئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب الاستفتاء میں کیا خوب فرمایا تھا کہ: " وإنه جاء في وقت الضرورة، وعند مصيبة صُبت على الإسلام من أيدى الكفرة۔۔۔۔۔۔واقتضى الزمان أن يحى، ويبكت الكفار