مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 310 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 310

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 292 لئے کافی ہے، تو کیا اسلام نے اس بات پر ان کی توبیخ نہیں کی؟ کیونکہ دین میں تجدید انبیاء اور مرسلین کی بعثت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پس ہر رسول اپنے سے پہلے رسولوں کا مجدد ہوتا ہے جو ایسی شریعت لے کے آتا ہے جو اس زمان و مکان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہوتا ہے۔اسلام چونکہ دنیا کی ترقی اور دین کے اعلیٰ ترین مبادی لے کر آیا اور انسانیت کو اس کی مطلوبہ خوشی اور خوش بختی اور علو اور کمال عطا کیا اس لئے اسلام میں اس طرح کی دینی تجدید تو ختم ہو گئی۔تاہم ایسی تجدید اسلام میں زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی رہی ہے جو کہ در حقیقت قرآن کریم کی تعلیمات اور سنت نبوی کی طرف رجوع کرنے کا دوسرا نام ہے۔اسی تجدید کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے: ” إن الله يبعث على رأس كل مائة سنة من يجدد لهذه الأمة أمر دينها “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر کسی کو کھڑا کر دے گا جو اس امت کے دینی امور کی تجدید کا کام کرے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق ہر صدی کے سر پر مجدد ظاہر ہوتے آئے ہیں جن میں حضرت عمر بن عبد العزیز اور امام نووی رحمہما اللہ وغیرہ شامل ہیں۔آج کے زمانے میں جبکہ صحیح اسلام کی زندگی پر جمود طاری ہے اور مادیت اور معصیت کے پیچھے دوڑ لگی ہوئی ہے ان حالات میں ہمیں خالص اسلامی تجدید کی ضرورت ہے نہ کہ اس جھوٹی تجدید کی جس کی طرف بعض ایسے مسلمان بلا رہے ہیں جن کی آنکھیں یورپی تہذیب اور اس کی جھوٹی چمک دمک سے چندھیا گئی ہیں اور جس سے ہمیں ایسے خطر ناک نقصان کا اندیشہ ہے جس کے برے اثرات سے ہم ابھی سے نبرد آزما ہیں۔ہمیں تو ایک گروہ مجددین کی ضرورت ہے جو ہمارے دلوں اور عقلوں اور ہمارے نفوس میں اسلام کی مفید اور حقیقی روح پھونک دیں۔کیونکہ اسلام ہی ہماری بیماریوں کا علاج اور ہمارے درد کی مداوا ہے۔ہمیں ایسے گروہ مجددین کی ضرورت ہے جو ہمارے اخلاق کی تجدید کریں جو کہ اتنے بگڑ گئے ہیں کہ جن کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں رہا۔ایسے گروہ مجددین کی ضرورت ہے جو ہماری ہمت اور شجاعت کی تجدید کریں۔ایسے گروہ مجددین جو ہماری پر فخر و پر عظمت اعمال سے معمور تاریخ کی تجدید کریں جس